لاہور(ایگزونیوز ڈیسک)پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے نظم و ضبط کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے فاسٹ بولر نسیم شاہ کے خلاف بڑا قدم اٹھایا ہے، جہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے متعلق متنازع سوشل میڈیا پوسٹ نے کھلاڑی کو بھاری مالی نقصان سے دوچار کر دیا، واقعے کے بعد بورڈ کی جانب سے فوری تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جس میں سنٹرل کنٹریکٹ اور سوشل میڈیا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر دو کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ اس اقدام کو ادارے کی جانب سے ڈسپلن پر زیرو ٹالرنس پالیسی کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کے خلاف سنٹرل کنٹریکٹ اور سوشل میڈیا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ان پر دو کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔اس فیصلے کا اعلان تین رکنی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔بورڈ کے مطابق نسیم شاہ کو ستائیس مارچ کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا،جس کے بعد معاملے کی باقاعدہ سماعت کی گئی۔دوران سماعت کھلاڑی کی جانب سے غیر مشروط معافی کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تاہم شواہد اور دستیاب مواد کے تفصیلی جائزے کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ سنٹرل کنٹریکٹ کی متعدد شقوں اور سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر قذافی سٹیڈیم میں ایک متنازع سوشل میڈیا پوسٹ سامنے آئی،جو نسیم شاہ کے ایکس اکاونٹ سے کی گئی تھی۔اس پوسٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو دیے گئے پروٹوکول پر سوال اٹھایا گیا تھا،جس کے بعد کرکٹ حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔بعد ازاں مذکورہ پوسٹ کو حذف کر دیا گیا اور کھلاڑی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ان کا سوشل میڈیا اکاونٹ ہیک ہو گیا تھا۔پی سی بی نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نہ صرف کھلاڑی کے خلاف کارروائی کی بلکہ ان کے سوشل میڈیا ایڈوائزر کو بھی فوری طور پر برطرف کر دیا گیا۔
مزید برآں بورڈ نے اس ایڈوائزر کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جس کے تحت وہ مستقبل میں کسی بھی پی سی بی کنٹریکٹڈ کھلاڑی کے ساتھ کام نہیں کر سکے گا۔بورڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ پیشہ ورانہ معیار،نظم و ضبط اور معاہدوں کی پاسداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام کھلاڑیوں کو طے شدہ ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ہو گا۔اس فیصلے کو کرکٹ کے حلقوں میں ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،جس کا مقصد کھلاڑیوں کے طرز عمل کو ضابطے میں رکھنا اور ادارے کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔