Home » مریض کی حفاظت سب سے بڑی ذمہ داری،ماہرین نے طبی نظام میں بڑی خامیوں سے پردہ اٹھا دیا

مریض کی حفاظت سب سے بڑی ذمہ داری،ماہرین نے طبی نظام میں بڑی خامیوں سے پردہ اٹھا دیا

by ahmedportugal
14 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)صوبائی دارالحکومت لاہور میں منعقدہ مریضوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں قومی اور عالمی ماہرین صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طبی نظام میں موجود غلطیوں اور غفلت کے باعث ہر سال ہزاروں مریض متاثر ہو رہے ہیں،جن میں کئی اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،ان حالات میں صحت کے شعبے کو فوری طور پر ایسے اصول اپنانا ہوں گے جن کے تحت ہر مریض کو ایک ذمہ داری اور مکمل توجہ کے ساتھ اس طرح دیکھا جائے جیسے وہ اپنے گھر کا فرد ہو تاکہ علاج کے دوران ہونے والی قابل تدارک غلطیوں کو روکا جا سکے اور صحت کا نظام زیادہ محفوظ اور موثر بنایا جا سکے۔
ایگزو نیوز کے مطابق قومی اور بین الاقوامی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں طبی اور ادویاتی غلطیوں کے باعث ہر سال ہزاروں مریض ہسپتالوں میں نقصان اٹھاتے ہیں اور متعدد کیسز میں یہ غلطیاں جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ صحت کے نظام میں بہتری اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹرز،نرسیں،فارماسسٹ اور ہسپتال انتظامیہ ہر مریض کو اپنے والدین یا بچوں کی طرح سمجھ کر علاج کریں تاکہ انسانی غلطیوں کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔یہ بات لاہور میں شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں منعقدہ ”نویں بین الاقوامی کانفرنس برائے مریضوں کا تحفظ 2026“کے دوران کہی گئی،جس کا موضوع ”مریضوں کا تحفظ آغاز سے ہی“ تھا۔کانفرنس میں پاکستان اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے نامور ماہرینِ صحت، پالیسی ساز،معالجین،نرسنگ پروفیشنلز،فارماسسٹ،محققین اور طبی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

ماہرین نے اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ علاج شروع کرنے سے پہلے یہ یقینی بنانا بنیادی ضرورت ہے کہ مریض کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں اور طبی عملے کو غلطیوں کو چھپانے کے بجائے ان کو تسلیم کرنا چاہیے،منفی طبی واقعات کی رپورٹنگ کو فروغ دینا چاہیے اور ان تجربات سے سیکھ کر پورے نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔سابق معاون خصوصی برائے صحت اور شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحت کے شعبے میں انسانی غلطیوں کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں تاہم ایک مضبوط نظام کے ذریعے ان غلطیوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کا تحفظ طبی نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ہسپتالوں میں ایسا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جہاں طبی عملہ بلا خوف اپنی غلطیوں کی نشاندہی کر سکے تاکہ مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچا جا سکے۔

کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے رفاہ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کیئر امپروومنٹ اینڈ سیفٹی کے زیر اہتمام کیا گیا،جس میں مریضوں کے تحفظ، ہسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن،ادویاتی حفاظت،انفیکشن کنٹرول،ڈیجیٹل ہیلتھ اور صحت کے نظام میں اصلاحات جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی سیشنز منعقد کیے گئے۔افتتاحی تقریب میں شوکت خانم میموریل ہسپتال کو مریضوں کے تحفظ کے شعبے میں نمایاں کارکردگی پر چار بڑے ایوارڈز سے نوازا گیا۔بہترین ہسپتال کے طور پر ”رفیدہ الاسلمیہ پیشنٹ سیفٹی چیمپیئن ایوارڈ“ شوکت خانم ہسپتال نے حاصل کیا جبکہ بہترین معالج کا ایوارڈ ڈاکٹر ہارون حفیظ،بہترین نرس کا ایوارڈ ناصر خان اور بہترین فارماسسٹ کا ایوارڈ عمر بھٹہ کو دیا گیا۔اسی طرح الخدمت فاونڈیشن پاکستان کے نمائندے سفیان احمد کو مریضوں کے تحفظ کے فروغ میں خدمات پر خصوصی اعزاز دیا گیا۔

کانفرنس کے چیئرمین ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں مریضوں کے تحفظ کا تصور اب ایک محدود خیال سے بڑھ کر ایک قومی سطح کی تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ان کے مطابق اس کانفرنس کا بنیادی مقصد قابلِ تدارک طبی نقصانات کو کم کرنا اور صحت کے شعبے میں معیاری نظام کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے گائناکالوجی،آبسٹیٹرکس اور پرائمری کیئر کے لیے خصوصی گروپس کے قیام کا اعلان بھی کیا اور بتایا کہ آئندہ کانفرنس پشاور میں منعقد کی جائے گی۔سی ای او صحت سہولت پروگرام محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ حکومت پاکستان صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے ملک کو خطے میں سستے اور معیاری علاج کے مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن اور معیار میں بہتری بین الاقوامی تعاون اور میڈیکل ٹورازم کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

رفاہ ہیلتھ کیئر سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسداللہ خان نے بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے احتیاطی صحت اور لائف سٹائل میڈیسن کی اہمیت پر زور دیا۔الخدمت فاونڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک مریض غیر محفوظ طبی عمل کے باعث نقصان اٹھاتا ہے جبکہ برطانیہ نے بہتر نظام کے ذریعے سالانہ ہزاروں جانیں بچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔شالا مار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زاہد بشیر نے کہا کہ پاکستان میں امراضِ قلب سمیت مختلف شعبوں میں محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ علاج کے دوران ہونے والے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

چلڈرن یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے کہا کہ ملک کی اکثریتی آبادی سرکاری ہسپتالوں پر انحصار کرتی ہے،اس لیے ان اداروں میں معیار اور مریضوں کے تحفظ کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کانفرنس کے دوران ادویاتی حفاظت،انفیکشن کنٹرول،نرسنگ سیفٹی،ڈیجیٹل ہیلتھ،ہسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مریضوں کے تحفظ کو بہتر بنانے سے متعلق مختلف ورکشاپس،پینل مباحثے،پوسٹر پریزنٹیشنز اور تکنیکی سیشنز بھی منعقد کیے گئے،جن میں شرکاء نے نظام صحت میں بہتری کے لیے عملی تجاویز پیش کیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز