اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان پر مجموعی قرضوں کا بوجھ تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے اور جون 2026 تک ملک کے مجموعی قرضوں کا حجم بڑھ کر 83 ہزار 642 ارب روپے ہوگیا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق ایک سال کے دوران مجموعی قرضوں میں 7.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال جون میں یہ حجم 77 ہزار 888 ارب روپے تھا۔
سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال مئی کے اختتام پر پاکستان کے مجموعی قرضوں کا حجم 81 ہزار 955 ارب روپے تھا،جو صرف ایک ماہ کے دوران مزید بڑھ کر جون میں 83 ہزار 642 ارب روپے ہوگیا۔یوں ایک ماہ میں بھی مجموعی قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں بھی مسلسل اضافہ جاری ہے۔جون 2026 تک وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں کا حجم سالانہ بنیاد پر 9.1 فیصد اضافے کے بعد 59 ہزار 441 ارب روپے تک پہنچ گیا،جو مجموعی قرضوں میں سب سے بڑا حصہ ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت کے بیرونی قرضوں کا حجم بھی بڑھا ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق جون 2026 تک بیرونی قرضے سالانہ 3.3 فیصد اضافے کے بعد 24 ہزار 201 ارب روپے ہوگئے۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی قرضوں میں اضافے کا بڑا حصہ مقامی قرضوں سے آیا جبکہ بیرونی قرضوں میں اضافے کی رفتار نسبتاً کم رہی۔اس صورتحال میں حکومت کی قرض لینے کی ضرورت،مالیاتی دباو اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے درکار وسائل ایک بار پھر معاشی بحث کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔
ماہرین معیشت کے مطابق قرضوں میں مسلسل اضافہ اس وقت زیادہ تشویشناک ہوجاتا ہے جب حکومت کی آمدن،برآمدات اور معاشی پیداوار قرضوں کی رفتار کے مطابق نہ بڑھ سکیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر قرضوں میں اضافے کو موثر مالیاتی نظم و ضبط،محصولات میں اضافے اور اقتصادی ترقی کے ذریعے قابو نہ کیا گیا تو قرضوں کی ادائیگی اور سود کے اخراجات قومی بجٹ پر مزید دباو ڈال سکتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم معیشت کے لیے ”ڈیڈ ٹریپ“ کا باعث بن سکتا ہے،خصوصاً اس صورت میں جب نئے قرضے پرانے قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے استعمال ہونے لگیں۔ان کے مطابق طویل مدتی بنیادوں پر قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مالیاتی اصلاحات،ٹیکس نیٹ میں توسیع،برآمدات میں اضافہ اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی ضروری ہے۔پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی برس سے بلند قرضوں،محدود مالی گنجائش،مہنگے قرضوں کی لاگت اور بیرونی ادائیگیوں کے دباو کا سامنا کررہی ہے۔مجموعی قرضوں کا حجم 84 ہزار ارب روپے کے قریب پہنچنے کے بعد حکومت کے لیے مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں کے پائیدار انتظام کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔سٹیٹ بینک کے تازہ اعدادوشمار نے ایک بار پھر یہ سوال نمایاں کردیا ہے کہ ملکی معیشت کو قرض پر انحصار سے نکالنے کے لیے عملی اور دیرپا حکمت عملی کب اور کس رفتار سے نافذ کی جاتی ہے۔مستقبل میں قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کو قابو میں رکھنا اور اقتصادی ترقی کی رفتار میں اضافہ حکومت کے لیے اہم معاشی چیلنجز میں شامل ہوگا۔