اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا تین روزہ سرکاری دورہ کامیابی سے مکمل ہو گیا،جس کے دوران پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو موثر انداز میں آگے بڑھایا۔اعلیٰ سطح ملاقاتوں میں دونوں ممالک نے کشیدگی میں کمی،مسائل کے پرامن حل اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا،جسے علاقائی سفارتکاری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ ایران کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا،جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات،علاقائی سکیورٹی صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے،جاری سفارتی روابط کو فروغ دینے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام پر گفتگو کی گئی۔بیان کے مطابق فیلڈ مارشل نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں،جن میں خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال،کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔
مزید برآں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی،جس میں دفاعی تعاون،علاقائی استحکام اور باہمی مفادات کے امور زیر غور آئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مسائل کا حل مکالمے،سفارتکاری اور کشیدگی میں کمی کے ذریعے ممکن ہے جبکہ دونوں ممالک نے خطے میں دیرپا امن،استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی قیادت اور عوام کی جانب سے پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور صدر پاکستان،وزیر اعظم اور پاکستانی عوام کی جانب سے نیک تمناوں اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے جبکہ پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔