Home » پاکستان کی ثالثی جاری مگر اختلافات برقرار،امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈلاک

پاکستان کی ثالثی جاری مگر اختلافات برقرار،امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈلاک

by ahmedportugal
6 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سرینا ہوٹل میں جاری براہِ راست مذاکرات کئی گھنٹوں سے مسلسل جاری تھے،جہاں پاکستان کی ثالثی کے تحت دونوں فریقین ایک دہائی کے بعد آمنے سامنے بیٹھ کر امن اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت کر رہے تھے،اب ان مذاکرات میں چند گھنٹوں کا تعطل آیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور آج(اتوارکو)دوبارہ شروع ہو گا ۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد عمل دوسرے مرحلے یعنی ماہرین کی سطح پر داخل ہوا،جہاں معاشی، عسکری، قانونی اور جوہری امور پر خصوصی کمیٹیوں نے تفصیلی گفتگو کی اور مختلف تجاویز پر تحریری مسودوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق اس وقت سب سے بڑا اختلافی نکتہ آبنائے ہرمز کا معاملہ ہے،جس پر فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔ایران کا موقف ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول اور ٹول ٹیکس کا اختیار صرف اسی کے پاس رہنا چاہیے جبکہ مشترکہ کنٹرول کی تجاویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی موقف کے مطابق اس معاملے میں مزید سخت شرائط پیش کی گئی ہیں،جس کے باعث مذاکراتی پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے فنانشل ٹائمز کے مطابق مذاکرات اس بنیادی مسئلے پر تعطل کا شکار ہیں تاہم رات گئے ورکنگ ڈنر کے دوران بھی سفارتی رابطے جاری رہے،جو اس بات کی علامت ہے کہ فریقین مکمل طور پر مذاکراتی عمل سے پیچھے نہیں ہٹے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ باضابطہ رابطے رات دیر تک جاری رہے اور دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ابتدائی مراحل میں یہ بھی واضح نہیں تھا کہ مذاکرات براہِ راست ہوں گے یا بالواسطہ تاہم پاکستان کے سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن اور ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے براہِ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ذرائع کے مطابق ابتدائی اہم ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس،خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی وفد کی جانب سے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق اس ملاقات کے دوران ماحول کبھی سخت اور کبھی نسبتاً نرم رہا،جسے سفارتی اصطلاح میں “موڈ سوئنگز” قرار دیا گیا تاہم فریقین نے تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت جاری رکھی۔اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو ایرانی انقلاب 1979 کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل 2015 کے جوہری معاہدے اور 2018 میں امریکی پالیسی تبدیلی کے بعد تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔موجودہ صورتحال میں عالمی صحافی اور سفارتی مبصرین بھی اس عمل کی کوریج کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ حکام کی جانب سے میڈیا کو براہِ راست رسائی کے بجائے پیش رفت سے مرحلہ وار آگاہ کیا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز