اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ملکی معیشت پر دباو میں اضافہ جاری ہے،جہاں رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران حکومت نے بیرونی مالی معاونت اور قرضوں کی مد میں مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر سے زائد رقم حاصل کر لی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے،جس نے مالیاتی صورتحال اور قرضوں پر انحصار کے رجحان کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملک کی بیرونی مالی صورتحال میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے،جہاں جولائی سے اپریل تک حکومت نے مختلف ذرائع سے مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض حاصل کیا ہے۔اقتصادی امور سے متعلق سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 83 فیصد زیادہ ہے،جب تقریباً 6 ارب ڈالر قرض لیا گیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالر کے قریب رقم موصول ہوئی جبکہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی بیرونی مالی معاونت کا تخمینہ 19 ارب 39 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔اسی عرصے میں 12 کروڑ ڈالر کی گرانٹس بھی حاصل ہوئیں جبکہ مقامی کرنسی کے مطابق بیرونی مالی معاونت کا حجم 3 ہزار 103 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اس سال 5 ارب ڈالر اضافی قرض حاصل کیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ملنے والے فنڈز کے علاوہ مختلف دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت بھی مالی معاونت حاصل ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے تقریباً 1 ارب 92 کروڑ ڈالر،عالمی بینک سے 1 ارب 66 کروڑ ڈالر اور اسلامی ترقیاتی بینک سے 86 کروڑ ڈالر کی معاونت شامل ہے۔اسی طرح سعودی عرب اور چین کی جانب سے سیف ڈپازٹس کے رول اوور کی مد میں مجموعی طور پر 9 ارب ڈالر تک کے انتظامات کیے گئے ہیں،جن میں سے سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کا رول اوور پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔
اقتصادی امور ڈویڑن کی رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران مختلف معاہدوں کے تحت 4 ارب 15 کروڑ ڈالر سے زائد فنڈز حاصل کیے گئے جبکہ رواں مالی سال کے دوران ماہانہ بنیادوں پر بھی اربوں روپے کے بیرونی قرضے موصول ہوتے رہے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال کے دوران نہ صرف قرضوں کا حجم بڑھا بلکہ مالی معاونت کے ذرائع میں بھی وسعت آئی ہے،جس میں پراجیکٹ فنانسنگ اور نان پراجیکٹ ایڈ دونوں شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے مالی دباو کی عکاسی کرتی ہے اور آئندہ مالی پالیسیوں میں احتیاطی اقدامات کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔