اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان کے تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،جہاں یونیسکو نے مزید پاکستانی مقامات کو اپنی عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔تازہ اضافوں کے بعد پاکستان کی یونیسکو کی Tentative List میں شامل مقامات کی تعداد 37 ہوگئی ہے۔ یونیسکو کے مطابق اس فہرست میں نئی شمولیتوں کی تازہ ترین نظرثانی 11 مئی 2026 کو کی گئی۔یونیسکو کی عارضی فہرست میں کسی مقام کی شمولیت کو عالمی ورثے کی حتمی فہرست میں شامل کیے جانے کا درجہ حاصل نہیں ہوتا تاہم یہ عالمی ورثے کے ممکنہ امیدوار کے طور پر نامزدگی کے عمل میں ایک اہم ابتدائی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔پاکستان پہلے ہی عالمی ورثے کی حتمی فہرست میں چھ مقامات شامل کرا چکا ہے،جن میں موئن جو دڑو،ٹیکسلا،تختِ بھائی،لاہور قلعہ و شالامار باغ، مکلی اور روہتاس قلعہ شامل ہیں۔
تازہ فہرست میں پاکستان کے مختلف خطوں کے ایسے مقامات شامل کیے گئے ہیں جو ملک کی قدیم تہذیبوں،بدھ مت،گندھارا ثقافت،مغلیہ و مقامی طرزِ تعمیر اور صحرائی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں کیلاش وادی کا ثقافتی منظرنامہ،بزیرا باریکوٹ، گور کھتری کا آثارِ قدیمہ کمپلیکس،بھامالا بدھ مت کمپلیکس، سیٹھی ہاوس سمیت متعدد مقامات کو عارضی فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔چترال کی کیلاش وادی کو خاص طور پر ایک منفرد ثقافتی منظرنامے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ یونیسکو کے مطابق بمبوریت، رمبور اور بریر کی وادیاں ایک مسلسل آباد پہاڑی ثقافتی ماحول کی نمائندگی کرتی ہیں،جہاں روایتی طرزِ زندگی،رسومات،زراعت اور مقامی سماجی نظام آج بھی تاریخی تسلسل کے ساتھ موجود ہیں۔سندھ کے تاریخی ورثے کو بھی نئی فہرست میں نمایاں جگہ ملی ہے۔کوٹ ڈیجی،ناوکوٹ اور عمرکوٹ قلعے کو یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔کوٹ ڈیجی قلعہ تالپور دور کی عسکری تعمیرات اور خطے کی قدیم آبادیوں کے آثار کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔عمرکوٹ قلعہ بھی تاریخی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔یونیسکو کے مطابق یہ قلعہ صدیوں پر محیط سیاسی،ثقافتی اور معماری ارتقا کی نمائندگی کرتا ہے اور مغل،سندھی اور مقامی راجپوت روایات کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔پنجاب اور اسلام آباد کے خطے سے بھی تاریخی مقامات اس فہرست کا حصہ بنے ہیں،جن میں پھروالہ قلعہ،روات قلعہ اور سلطان مقرب خان کا مقبرہ شامل ہیں۔
یونیسکو کے مطابق روات قلعہ تاریخی گرینڈ ٹرنک روڈ سے وابستہ ایک قلعہ بند کاروان سرائے اور دفاعی کمپلیکس ہے،جو صدیوں تک تجارتی،عسکری اور ثقافتی نقل و حرکت کے اہم راستے سے جڑا رہا۔نئی شمولیتوں میں مائی قمر مسجد بھی شامل ہے جب کہ گندھارا اور بدھ مت سے متعلق مقامات پاکستان کے قدیم تہذیبی اور مذہبی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یونیسکو کی مکمل تازہ فہرست میں 2026 میں شامل کیے گئے ان نئے مقامات کے ساتھ پاکستان کے پہلے سے موجود تاریخی،آثارِ قدیمہ، قدرتی اور ثقافتی مقامات بھی برقرار ہیں۔پاکستان کی عارضی فہرست میں پہلے سے مہرگڑھ، ہڑپہ،رانی گٹ،شاہبازگڑھی کے چٹانی کتبے،منسہرہ کے چٹانی کتبے،بلتت قلعہ،رانی کوٹ،شاہ جہاں مسجد ٹھٹھہ،دیراور اور چولستان کے صحرائی قلعے،ہنگول ثقافتی منظرنامہ،دیوسائی نیشنل پارک،زیارت جونیپر فاریسٹ اور کھیوڑہ سالٹ رینج جیسے اہم مقامات بھی شامل ہیں۔یونیسکو کی اس پیش رفت سے پاکستان کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں تاہم کسی مقام کا Tentative List میں شامل ہونا خود بخود اسے UNESCO World Heritage List کا حصہ نہیں بناتا؛حتمی عالمی ورثے کا درجہ حاصل کرنے کے لیے الگ نامزدگی اور جائزے کا عمل مکمل ہونا ضروری ہے۔