لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان نے شاندار آل راونڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی آسٹریلیا کو 112 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کر لیا،سات سال بعد آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش گرین شرٹس کی بھرپور برتری اور جارحانہ کھیل کا منہ بولتا ثبوت بن گیا۔
ایگزو نیوزکے مطابق لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز بنائے،جو آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پاکستان کا سب سے بڑا سکور ہے،گرین شرٹس کی اننگز میں مجموعی رن ریٹ 10.35 رہا۔پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز صائم ایوب اور فخر زمان نے کیا تاہم فخر زمان ابتدائی اوورز میں ہی 14 کے مجموعی سکور پر 7 گیندوں پر 10 رنز بنا کر آوٹ ہو گئے۔کپتان سلمان علی آغا بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور 34 کے سکور پر محض 3 گیندوں پر 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔تیسری وکٹ پر صائم ایوب اور بابر اعظم نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 69 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی اور ٹیم کے سکور کو 103 تک پہنچایا۔صائم ایوب جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 37 گیندوں پر 56 رنز بنا کر کیچ آوٹ ہوئے،ان کی اننگز میں 6 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔بعد ازاں خواجہ نافع نے مختصر مگر تیز رفتار اننگز کھیلتے ہوئے 12 گیندوں پر 21 رنز بنائے۔
پانچویں وکٹ پر بابر اعظم اور شاداب خان نے میچ کا پانسہ مکمل طور پر پاکستان کے حق میں پلٹ دیا اور 57 رنز کی جارحانہ شراکت قائم کی۔شاداب خان نے صرف 19 گیندوں پر 46 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی جس میں شاندار سٹروکس شامل تھے تاہم وہ کیچ آوٹ ہو گئے۔محمد نواز صرف 5 رنز بنا سکے۔دوسری جانب بابر اعظم نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 36 گیندوں پر ناقابل شکست 50 رنز سکور کیے جبکہ فہیم اشرف نے 4 گیندوں پر 10 رنز بنا کر سکور کو 200 سے تجاوز کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔آسٹریلیا کی جانب سے بین وارشوس نے سب سے زیادہ 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ میتھیو کوہن مین،میتھیو شورٹ،کوپر کنولی اور کیمرون گرین نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔208 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن مکمل طور پر پاکستانی بولرز کے سامنے بے بس نظر آئی اور پوری ٹیم 17 اوورز میں محض 96 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔آسٹریلیا کی 9 وکٹیں گریں جبکہ لیگ سپنر ایڈم زمپا انجری کے باعث بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ آ سکے۔پاکستانی بولرز نے میچ کے آغاز سے ہی سخت لائن اور لینتھ کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع نہ دیا اور یکطرفہ مقابلے کو یادگار فتح میں بدل دیا۔یوں پاکستان نے نہ صرف سیریز میں 3-0 سے کلین سوئپ کیا بلکہ آسٹریلیا کے خلاف سات سال بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کر کے قذافی سٹیڈیم میں شائقین کو یادگار لمحات فراہم کیے۔