اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی ڈرون ساز کمپنی پاور یو ایس کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ نے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی نے پاکستان کے ساتھ ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں اور اسے ڈرونز سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی موصول ہوا ہے تاہم سکیورٹی اور رازداری کے تقاضوں کے باعث معاہدے کی مالی مالیت اور ڈرون ٹیکنالوجی کی نوعیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
بریٹ ویلیکووچ نے رائٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ مفاہمتی یادداشت پر بدھ کے روز دستخط کیے گئے اور اسی سلسلے میں ابتدائی آرڈر بھی موصول ہوا۔انہوں نے کہا کہ معلومات کی حساس نوعیت اور کمپنی کی رازداری کی پالیسی کے باعث آرڈر کی مالیت یا فراہم کی جانے والی ڈرون ٹیکنالوجی سے متعلق تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔پاور یو ایس کے شریک بانی کے مطابق یہ تعاون امریکا اور پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی پاکستان میں ٹیکنالوجی کی تیاری اور مشترکہ ٹیکنالوجی منصوبوں کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے،جس کے ذریعے دونوں ممالک کی تکنیکی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ بریٹ ویلیکووچ کی قیادت میں پاور یو ایس کے وفد نے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران دفاعی خریداری،دفاعی پیداوار اور طویل المدتی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی حل کی اہمیت پر زور دیا تاہم پاک فوج کے میڈیا ونگ کے بیان میں مفاہمتی یادداشت یا ابتدائی ڈرون آرڈر کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا جبکہ ان امور کی تفصیلات پاور یو ایس کے شریک بانی نے رائٹرز سے گفتگو میں بیان کیں۔
پاور یو ایس کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق کمپنی فضائی اور بحری ڈرونز تیار کرتی ہے جو فوجی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔کمپنی کے حکام نے پاکستان میں مشترکہ ٹیکنالوجی منصوبوں کے امکانات کا بھی اظہار کیا ہے۔پاور یو ایس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو اینڈریو فاکس نے پاکستان کے نجی دفاعی شعبے کو ابھرتا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں مزید ترقی اور تعاون کے امکانات موجود ہیں،امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت سے متعلق مزید مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔بریٹ ویلیکووچ نے کہا کہ کمپنی کا مقصد امریکا اور پاکستان کی بہترین دستیاب ٹیکنالوجی کو یکجا کرتے ہوئے مشترکہ ٹیکنالوجی تعلق قائم کرنا ہے،پاور یو ایس پاکستان میں ٹیکنالوجی کی تیاری کے ممکنہ طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے،جس سے مستقبل میں دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔رائٹرز کے مطابق پاور یو ایس اور ایک امریکی فہرست شدہ کمپنی کے درمیان انضمام کی تیاری بھی جاری ہے،جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ کی سرمایہ کاری شامل ہے۔دونوں کمپنیوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ انضمام اکتوبر کے اوائل میں مکمل ہوجائے گا۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے دونوں بیٹوں کی متعلقہ سرمایہ کاری امریکی وینچرز نامی سرمایہ کاری فنڈ کے ذریعے ہے جبکہ ریگولیٹری دستاویزات کے مطابق انضمام کے بعد مشترکہ کمپنی میں اس فنڈ کی قابلِ ذکر ملکیت متوقع ہے تاہم پاور یو ایس کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کمپنی کے کاروباری معاملات اور معاہدوں میں ٹرمپ خاندان کے افراد کا کوئی کردار نہیں۔
پاور یو ایس کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو فاکس نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ کمپنی کی ترقی یا معاہدے ٹرمپ خاندان کی سرمایہ کاری سے منسلک ہیں۔ان کے مطابق کمپنی کے معاہدے اہلیت اور کاروباری بنیادوں پر کیے جاتے ہیں اور ٹرمپ کے بیٹوں کا کمپنی کے کاروباری معاملات میں کوئی کردار نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے بھی کہا کہ ان کا پاور یو ایس کی انتظامیہ یا آپریشنز سے کوئی تعلق نہیں اور وہ امریکا یا بیرون ملک کمپنی کے معاہدوں کی خریداری یا مذاکرات کے عمل میں شامل نہیں ہیں۔ترجمان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کو اس معاہدے کا پہلے سے علم بھی نہیں تھا اور اس کی بات چیت،حصول یا تکمیل میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔وائٹ ہاوس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے بھی اس معاملے پر کہا کہ مفادات کے تصادم کا کوئی مسئلہ موجود نہیں۔اس طرح پاور یو ایس اور پاکستان کے درمیان سامنے آنے والی نئی پیش رفت ایک جانب دفاعی خریداری،دفاعی پیداوار اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی میں ممکنہ تعاون کی جانب اشارہ کرتی ہے جبکہ دوسری جانب معاہدے کی اصل مالیت،مخصوص ٹیکنالوجی اور ابتدائی آرڈر کی تفصیلات فی الحال خفیہ رکھی گئی ہیں۔