شیخوپورہ(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ایرانی صدر کا دورہ پاکستان نہایت اہمیت کا حامل ہے تاہم اس سے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں متوازن،ذمہ دار اور حقیقت پسندانہ سفارتکاری پر عمل پیرا ہے،جس کا مقصد علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ سعودی عرب پر حالیہ حملے کے باوجود سعودی قیادت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جبکہ قطر نے بھی مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا،جو قابلِ تحسین ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممالک کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔رانا تنویر حسین نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے نتیجے میں پاکستان اور چین کے درمیان زراعت، تحقیق،ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو گا،جس سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ زرعی شعبے میں تجارت اور برآمدات کے فروغ کے لیے بھی پیشرفت جاری ہے،جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی،ہنر مندی کے فروغ اور بلاسود قرضوں کی سکیموں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جبکہ صنعتی ترقی کے ذریعے ملک میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے اور مثبت سیاست ہی ملک کو درپیش مسائل کا واحد حل ہے۔انہوں نے 9 مئی جیسے واقعات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اپنی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر معاشی حالات سازگار رہے تو آئندہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے،جو عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا۔رانا تنویر حسین نے اپوزیشن کے حالیہ مثبت رویے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور عالمی سطح پر خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔