اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان نے اپنی مالیاتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلا پانڈا بانڈ کامیابی کے ساتھ جاری کر دیا ہے،جسے وفاقی وزیر خزانہ نے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے۔اس اقدام کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان پر اعتماد کی ایک نئی لہر دیکھی جا رہی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی نے ملک کی معاشی اصلاحات اور مالیاتی پالیسیوں کی سمت کو مزید مضبوط قرار دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے کامیاب اجرا کو ملک کی مالیاتی تاریخ میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے،جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مالیاتی پالیسیوں پر عالمی سطح پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں مضبوط واپسی کی علامت ہے اور اس سے اقتصادی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ اجرا پاکستان کے معاشی سفر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے،جس کے ذریعے ملک کی مالیاتی ساکھ مزید مستحکم ہوگی اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلسل اصلاحاتی کوششوں کے باعث پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان کو پانڈا بانڈ کے اجرا پر عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے نمایاں دلچسپی حاصل ہوئی ہے، جس کے تحت بھاری مقدار میں سرمایہ کاری کی پیشکشیں موصول ہوئیں، جو پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ ملک نے پہلی بار چین کی مقامی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اور گہری مالیاتی منڈیوں میں شمار ہوتی ہے۔پانڈا بانڈ کا مجموعی حجم ایک ارب امریکی ڈالر رکھا گیا ہے، جبکہ ابتدائی اجرا مخصوص مالیت کے برابر کیا گیا ہے۔ اس عمل کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی معاونت بھی حاصل ہے، جس سے اس پیش رفت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے لیے مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو مستقبل میں معاشی استحکام اور ترقی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔