اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل ہی وفاقی حکومت نے رات گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مہنگائی کا نیا دباو ڈال دیا ہے۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ اسے ایک بڑا معاشی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔اس فیصلے کے بعد عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ منتقل ہو گیا ہے جبکہ نئی قیمتوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔قیمتوں میں اس اضافے کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
حکومتی فیصلے کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں یکساں اضافہ کیا گیا ہے،جو مجموعی طور پر 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر بنتا ہے۔اس اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ،اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور آئندہ مرحلے میں ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ماہرین معاشیات کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ مہنگائی کی شرح کو مزید بڑھا سکتا ہے اور عام صارفین پر براہ راست اثر ڈالے گا۔عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر نے بھی کرایوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔