Home » ایران کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان سرگرم،عاصم منیر کا دورہ بھی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا،دفتر خارجہ

ایران کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان سرگرم،عاصم منیر کا دورہ بھی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا،دفتر خارجہ

by ahmedportugal
24 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے،فوجی تعطل کے خاتمے اور تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ علاقائی چیلنجز کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارتکاری ہی کے ذریعے ممکن ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل رابطے کررہا ہے،پاکستان سمجھتا ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہی خطے کے مفاد میں ہے،پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کے سلسلے میں چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 24 اگست کو ایران کا دورہ کیا،جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور موجودہ صورتحال سے نکلنے کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران نہ تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے کی حیثیت سے تھا اور نہ ہی امریکا کی جانب سے کسی پیغام رسانی کے لیے کیا گیا تھا،یہ دورہ پاکستان کی اپنی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے برادر ممالک کے ساتھ رابطوں میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزیر خارجہ بھی 14 اگست کو تہران کا دورہ کرچکے ہیں۔ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں علاقائی کشیدگی کم کرنے،فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی راہ تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال میں سفارتی رابطوں کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور علاقائی امن کے لیے اپنی ذمہ دارانہ کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔افغانستان کے حوالے سے سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغان عبوری حکومت کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے کابل کو دہشتگردی کے خلاف موثر اور قابلِ اعتبار اقدامات کے حوالے سے ٹھوس شواہد فراہم کرنا ہوں گے،پاکستان کی تشویش کا بنیادی محور دہشت گردی ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں،پاکستان بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے لیکن اس عمل کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات بھی درکار ہوں گے۔

بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف کی جانب سے کرانہ ہلز حملے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے سٹریٹجک اثاثوں کی سلامتی کے حوالے سے دوٹوک موقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کی حفاظت و سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔بھارتی حکام کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے انہیں غیر سنجیدہ قرار دیا اور کہا کہ بالی ووڈ طرز کے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی واقعے سے متعلق کوئی دعویٰ ہے تو 16 سے 18 ماہ بعد اس نوعیت کے بیانات دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ترجمان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے ایک سال کے لیے تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے اور 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی پاکستان کرے گا۔

ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف بشکیک میں ہونے والی ایس سی او کانفرنس میں شریک ہوئے، جہاں وہ مختلف رہنماوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی کرغزستان کی قیادت کے ساتھ بھی ملاقاتیں متوقع ہیں،جن میں دوطرفہ تعلقات،علاقائی امور اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوگا۔پاک ایران تجارتی تعلقات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بین الاقوامی تجارتی قوانین اور متعلقہ ضوابط کے تحت جاری ہے۔پاکستان ایران کے ساتھ قانونی تجارت کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے اور باہمی اقتصادی روابط کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ایران پر عائد پابندیوں سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند نہیں تاہم اگر اقوام متحدہ کی جانب سے کسی ملک کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں تو صورتحال مختلف ہوگی اور اس کے مطابق عالمی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں اور ایسے اقدامات کی مخالفت کی ہے،کیونکہ پاکستان بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان ایک طرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب اپنی قومی سلامتی، اسٹریٹجک اثاثوں اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے معاملے پر بھی واضح اور غیر مبہم موقف برقرار رکھے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز