اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاور ڈویژن نے بجلی کے شعبے میں تاریخ ساز اور فیصلہ کن اقدامات کی تفصیلات سامنے رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) مرحلہ وار نجکاری کے عمل میں شامل کی جا رہی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق یہ انکشاف سینیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں پاور ڈویژن حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے دوران کیا گیا۔حکام نے بتایا کہ نجکاری کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی(آئیسکو)،فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی(فیسکو)اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی(گیپکو)کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔دوسرے مرحلے میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو)اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو)کی نجکاری کی جائے گی جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی(لیسکو)،ملتان الیکٹرک پاور کمپنی(میپکو)اور حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی(ہیزکو)کو نجکاری کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران پاور ڈویژن حکام نے یہ بھی بتایا کہ گدو اور نندی پور پاور پلانٹس کو نجکاری کے لیے مکمل طور پر تیار کر لیا گیا ہے اور حکومت اب ان پاور پلانٹس پر مزید کوئی مالی بوجھ برداشت نہیں کرے گی۔حکام کے مطابق دونوں پلانٹس کے لیے گیس کی محدود الاٹمنٹ درکار ہے،گدو پاور پلانٹ کو ماضی میں 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جاتی تھی تا ہم اس وقت یہ پلانٹ 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پر کام کر رہا ہے جبکہ نندی پور پاور پلانٹ آر ایل این جی پر چل رہا ہے۔قائمہ کمیٹی کے رکن سینیٹر بلال خان نے سوال اٹھایا کہ اگر نجکاری کا عمل کامیاب نہ ہوا تو حکومت کے پاس متبادل کیا ہو گا؟اس پر پاور ڈویژن حکام نے واضح جواب دیا کہ ایسی صورت میں معاملہ دوبارہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔
سینیٹر بلال خان نے مزید استفسار کیا کہ حکومت کو کس بنیاد پر یقین ہے کہ نجی شعبہ ان خسارے میں چلنے والے پاور پلانٹس اور ڈسکوز کو کامیابی سے چلا سکے گا؟۔پاور ڈویژن حکام نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں بھی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نجکاری سے قبل 80 فیصد تک نقصان میں تھیں تا ہم نجی شعبے کے سپرد کیے جانے کے بعد وہ منافع بخش اداروں میں تبدیل ہو گئیں۔حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی ڈسکوز کی نجکاری کے لیے تمام انتظامی،تکنیکی اور مالی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور حکومت پرائیویٹ سیکٹر کی کارکردگی پر پر اعتماد ہے۔اجلاس میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات، خسارے پر قابو پانے اور صارفین کو بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے نجکاری کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے اثرات قومی معیشت اور توانائی کے شعبے پر گہرے ہوں گے۔