اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)الیکشن قوانین کا بڑا آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور انتخابی نظام کی سمت یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔قومی اسمبلی نے ایک متنازع مگر دور رس اثرات رکھنے والا الیکشن ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت انتخابی تنازعات اور قانونی تشریحات میں سپریم کورٹ کا کردار محدود کر کے اختیارات فیڈرل آئینی عدالت کو منتقل کر دیے گئے ہیں جبکہ ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اثاثوں کو سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر خفیہ رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے، جس پر اپوزیشن کی جانب سے شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں اہم اور دور رس نوعیت کی مزید ترامیم کا بل منظور کر لیا ہے،جس کے تحت الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔منظور شدہ قانون سازی کے ذریعے انتخابی تنازعات، اپیلوں اور قانونی تشریحات سے متعلق متعدد اختیارات سپریم کورٹ کے بجائے فیڈرل آئینی عدالت کو منتقل کر دیے گئے ہیں جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات کی اشاعت کے طریقہ کار میں بھی بنیادی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ایوان سے منظور ہونے والے بل کے مطابق الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 9، 66، 104، 104A، 155، 202، 212 اور 232 میں ترامیم کی گئی ہیں،جن کے تحت ان تمام شقوں میں جہاں سپریم کورٹ کا ذکر تھا،وہاں اب فیڈرل آئینی عدالت کو شامل کر دیا گیا ہے۔ان ترامیم کے نتیجے میں الیکشن قوانین کے تحت اپیلوں،الیکشن تنازعات، سیاسی جماعتوں سے متعلق فیصلوں،فلور کراسنگ اور آئینی نوعیت کے دیگر معاملات کا دائرہ اختیار فیڈرل آئینی عدالت کو دے دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 138 میں بھی ایک اہم ترمیم منظور کی ہے،جس کے تحت سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ کسی رکن اسمبلی یا سینیٹ کے اثاثوں کی تفصیلات عوامی سطح پر شائع نہ کرنے کی اجازت دے سکیں۔ترمیم کے مطابق اگر کسی رکن کو جان یا سیکیورٹی کے خطرات لاحق ہوں تو اس کے اثاثے عوام سے خفیہ رکھے جا سکیں گے تاہم اس فیصلے کے لیے سپیکر یا چیئرمین کو تحریری وجوہات کے ساتھ ایوان میں رولنگ دینا ہو گی۔منظور شدہ قانون کے تحت اثاثوں کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھی جا سکیں گی تاہم اس دوران ارکانِ پارلیمنٹ پر لازم ہو گا کہ وہ اپنے اثاثوں اور واجبات کی مکمل اور درست تفصیلات الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خفیہ طور پر جمع کرائیں۔سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کی صورت میں الیکشن کمیشن اس مدت کے دوران اثاثے شائع کرنے کا مجاز نہیں ہو گا۔بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد شفافیت اور بنیادی انسانی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔اثاثوں اور واجبات کی معلومات کو احتساب کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے تاہم یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ غیر ضروری یا حد سے زیادہ انکشاف ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کے لیے سیکیورٹی خدشات پیدا کر سکتا ہے،اس لیے ذاتی سلامتی اور پرائیویسی کے تحفظ کو بھی قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ایوان میں اس بل پر بحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مجوزہ قانون کے ذریعے انتخابی معاملات کو سپریم کورٹ کے بجائے فیڈرل آئینی عدالت میں منتقل کیا جا رہا ہے،حالانکہ بعض معاملات میں آئینی تشریح کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن چند پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کا فیصلہ کرے تو اس معاملے کو آئینی عدالت میں لے جانا غیر ضروری ہے۔اس کے جواب میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ ماضی میں بھی الیکشن کمیشن کے کئی معاملات آئینی عدالت میں جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دینے،فلور کراسنگ اور دیگر آئینی نوعیت کے معاملات آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ الیکشن کمیشن کی اپیلیں تقسیم کر کے کچھ سپریم کورٹ اور کچھ آئینی عدالت میں لے جائی جائیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ضابطہ فوجداری میں ترمیم سے متعلق سی آر پی سی ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیا گیا،جس میں سیکشن 174 بی اور سی میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ یہ بل غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔اسی اجلاس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق آئینی ترمیمی بل بھی پیش کیا گیا،جس میں خواتین کے براہ راست انتخاب کی تجویز شامل ہے۔علاوہ ازیں دستور ترمیمی بل 2026 بھی ایوان میں پیش کیا گیا،جس پر وزیر قانون نے اصولی اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے بل کو مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی حمایت کی۔اجلاس کے دوران فاطمہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد الیکشنز ایکٹ ترمیمی بل اب سینیٹ میں پیش کیا جائے گا،جہاں اس پر مزید بحث اور منظوری کے مراحل مکمل کیے جائیں گے۔