Home » معرکہ حق کی پہلی سالگرہ،بھارت ثبوت دینے میں ناکام،عسکری قیادت کا بھرپور ردعمل،ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقائق سب کے سامنے رکھ دیے

معرکہ حق کی پہلی سالگرہ،بھارت ثبوت دینے میں ناکام،عسکری قیادت کا بھرپور ردعمل،ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقائق سب کے سامنے رکھ دیے

by ahmedportugal
4 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر عسکری قیادت نے بھارت کے بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام الزامات کے باوجود بھارت آج تک کسی بھی دعوے کے حق میں ٹھوس اور قابلِ تصدیق ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ اس معرکے میں پاکستان نے ہر محاذ پر برتری ثابت کی اور حقائق دنیا کے سامنے آ چکے ہیں جبکہ بھارت کا پروپیگنڈا بے نقاب ہو چکا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دے کر تاریخ رقم کی۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف عسکری حکمت عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ قومی اتحاد، قیادت کے وژن اور افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی مظہر ہے ۔سینئر بحری اور فضائی افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،پاکستان نے زمینی،فضائی،بحری اور جدید محاذوں پر دشمن کو موثر جواب دیا اور اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ان کے مطابق بھارت آج تک پہلگام واقعے کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا جبکہ اس واقعے کو بنیاد بنا کر فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا ایک من گھڑت بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر معرکہ حق نے اس بیانیے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر الزام لگانے والے خود خطے میں عدم استحکام کا باعث ہیں اور مختلف طریقوں سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دیتے رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے زور دیا کہ بھارت نے بارہا جھوٹے آپریشنز کے ذریعے بیانیہ بنانے کی کوشش کی جبکہ اس کے سیاسی رہنما اکثر غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیانات دیتے رہے۔اس کے برعکس پاکستان کی مسلح افواج نے پورے عرصے کے دوران صبر،تحمل اور پیشہ ورانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار فوج ہمیشہ حقائق اور حکمت عملی کے ساتھ بات کرتی ہے،نہ کہ جذباتی دعووں کے ذریعے۔انہوں نے مسئلہ کشمیر کو ایک عالمی تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی صورت بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ حقیقت کا سامنا کرے اور جھوٹے بیانیے سے باہر نکلے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پہلگام واقعے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر مقدمہ درج کر کے پاکستان پر الزام لگانا خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔اگر بھارتی ادارے اتنے ہی موثر تھے تو حملہ آوروں کی پیشگی معلومات کیوں نہ حاصل کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی عالمی برادری اور خود بھارت کے باشعور حلقے اس واقعے کے حقائق جاننے کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی مختلف مقامات کا دورہ کر کے یہ دیکھا کہ بھارتی کارروائیوں میں عام شہری،خواتین اور بچے متاثر ہوئے،جس سے بھارت کے دعووں کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ان کے مطابق بھارت نہ صرف سرحد پار بلکہ اپنے اندر بھی اقلیتوں اور کشمیریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان کے خلاف کیے گئے اقدامات کے باوجود قوم مکمل طور پر متحد رہی۔ملک کے ہر طبقے نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان اندرونی طور پر مضبوط اور یکجا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بھارت اپنی فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ پیشہ ورانہ اصولوں کو مقدم رکھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت کو کسی معاملے پر اختلاف ہے تو اسے ذمہ دارانہ اور براہ راست طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے مسلسل یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے روابط بیرونی عناصر سے جڑے ہیں،جن میں بعض نیٹ ورکس ہمسایہ علاقوں کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔پاکستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی اور عملی اقدامات جاری رکھے ہیں۔بحریہ کے نمائندے نے اس موقع پر کہا کہ معرکہ حق میں تینوں افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی فتح کی بنیادی وجہ بنی اور سمندری حدود کا بھرپور دفاع کیا گیا۔فضائیہ کے نمائندے نے بتایا کہ چند ہی لمحوں میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا گیا اور اس کی فضائی برتری کا دعویٰ ختم کر دیا گیا۔پریس کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک ذمہ داری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں،کیونکہ اشتعال انگیز بیانیے اور غلط معلومات نہ صرف کشیدگی بڑھاتے ہیں بلکہ علاقائی استحکام کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز