اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سابق وفاقی وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے پاکستان کی برآمدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں ملک تقریباً 8 ارب ڈالر کی ممکنہ برآمدی آمدن حاصل کرنے سے محروم رہا۔
ایگزو نیوز کے مطابق ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے برآمدات میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم یہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں کمی کے باعث ملک کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے،جو معیشت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔سابق وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کا براہ راست تعلق برآمدات کے فروغ سے ہے،اس لیے برآمدی شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ صنعتی پیداوار،کاروباری ماحول اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائے بغیر برآمدات میں مطلوبہ اضافہ ممکن نہیں۔ڈاکٹر گوہر اعجاز نے خبردار کیا کہ اگر برآمدات کے شعبے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو معاشی دباو میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق پاکستان کے پاس اب بھی مواقع موجود ہیں تاہم ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے واضح حکمت عملی،مستقل پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں بہتری نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مجموعی معاشی ترقی کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
برآمدات میں کمی سے پاکستان کو 8 ارب ڈالر کا نقصان،گوہر اعجاز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
9