اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حالیہ دہشتگرد حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے خلاف سخت سفارتی ردعمل دیتے ہوئے افغان ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر لیا ہے اور افغان طالبان حکومت کو باقاعدہ احتجاجی مراسلہ(ڈیمارش) بھی جاری کیا گیا ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اپنی سرزمین پر دہشتگردی کی کسی بھی کارروائی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ترجمان نے بتایا کہ حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جبکہ سیکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے متعدد دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا ہے۔سرحد پار اور قریبی علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 29 دہشتگرد ہلاک کیے گئے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے خلاف سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے افغان ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر لیا ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق افغان طالبان حکومت کو باقاعدہ ڈیمارش بھی دیا گیا ہے،جس میں اس حملے پر شدید تحفظات اور پاکستان کی جانب سے سخت موقف سے آگاہ کیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی دہشتگرد کارروائی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور کراچی واقعے میں افغان شہریوں اور نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔واضح رہے کہ کراچی کے علاقے صفورہ میں رینجرز کیمپ پر حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ایک افغان دہشتگرد عثمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا،جس نے ابتدائی تفتیش میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کارروائی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔گرفتار ملزم کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی جبکہ اسلحہ اور سہولت کاری مختلف نیٹ ورکس کے ذریعے فراہم کی گئی۔حملے میں رینجرز کے تین جوان شہید ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں تین دہشتگرد مارے گئے۔اس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے افغان سرحد کے قریب اور اندرونی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے،جن میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے متعدد دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔وزیر اطلاعات کے مطابق باجوڑ اور سرحدی علاقوں میں کی گئی کارروائیوں میں اہم کمانڈرز سمیت 29 دہشتگرد مارے گئے جبکہ افغان صوبوں پکتیا،پکتیکا اور کنڑ میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنے شہدا کے خون کا حساب لینے کے لیے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرے گا اور آپریشن عزمِ استحکام پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
کراچی حملے پر پاکستان کا سخت ردعمل، افغانستان کو ڈیمارش،سرحد پار کارروائیوں میں 29 دہشتگرد ہلاک
16