اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا)اب روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی۔وفاقی وزراء کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق بروقت فیصلے کرنا اور شعبے میں شفافیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خطے کی موجودہ صورت حال،توانائی کی عالمی قیمتوں اور حکومت کی پٹرولیم پالیسی سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مقرر کرے گی جبکہ نئی قیمتیں اوگرا کی ویب سائٹ پر جاری کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت پٹرولیم شعبے کو مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کی جانب لے کر جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں پر دباو بڑھ رہا ہے،جس کے اثرات دنیا بھر کے ساتھ پاکستان پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ان کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے مشکل حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کی مد میں 130 ارب روپے خرچ کیے ہیں اور یہ پروگرام اب بھی جاری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے قیمتوں کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر تیل اور گیس کی تلاش کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ترک پٹرولیم تقریباً دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کیلئے اکتوبر میں اپنا جہاز پاکستان لا رہی ہے،جس سے توانائی کے شعبے میں نئے امکانات پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) کے ساتھ سرکلر ڈیٹ کے مسئلے پر کام کر رہی ہے جبکہ ریفائنریز کو جدید بنانے کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں تاکہ خام تیل کے بہتر استعمال اور عالمی معیار کی مسابقتی قیمتوں پر مصنوعات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا تعلق عالمی مارکیٹ اور خطے کی صورتحال سے ہے۔انہوں نے کہا کہ جب خطے میں کشیدگی بڑھی تو عالمی سطح پر تیل کی قلت کا خدشہ پیدا ہوا تاہم پاکستان نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اضافی ذخائر کا انتظام کیا اور ملک میں پٹرول کی فراہمی کو یقینی بنایا۔عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے مختلف ممالک سے آئل کارگو منگوا کر ملکی ضروریات پوری کیں جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی کمپنی کو ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام اب ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر ہو گا،جس سے مارکیٹ میں شفافیت اور عالمی قیمتوں کے مطابق بروقت فیصلوں میں مدد ملے گی۔انہوں نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے نظام کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ توانائی کے شعبے میں مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پائیدار حل اختیار کیے جا سکیں۔