Home » پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکا اور عالمی طاقتیں ایک میز پر،مذاکرات کا 80 منٹ کا پہلا دور مکمل

پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکا اور عالمی طاقتیں ایک میز پر،مذاکرات کا 80 منٹ کا پہلا دور مکمل

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد تکنیکی سطح پر مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے،جس کا پہلا دور تقریباً 80 منٹ تک جاری رہا۔یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں منعقد ہو رہے ہیں،جنہیں خطے اور عالمی سطح پر اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ہمراہ کانفرنس ہال پہنچے، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔کانفرنس میں شرکت کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے مصافحہ اور معانقہ کیا،جو اس پیش رفت کی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم بھی اس اہم اجلاس میں شریک ہوئے،جس سے مذاکرات کی بین الاقوامی حیثیت مزید واضح ہو گئی۔ایرانی میڈیا کے مطابق ابتدائی مذاکراتی دور میں ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور دھمکیوں پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا اور ان بیانات کو مذاکراتی ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ذرائع کے مطابق ایرانی قیادت نے ان دھمکیوں کے بعد مختلف سفارتی اور اسٹریٹجک آپشنز پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن عالمی امن کے قیام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات مثبت نتائج کی طرف پیش رفت کریں گے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی حکمت عملی اور کوششوں نے اس عمل کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کی قیادت کو بھی مذاکرات کے آغاز کا سبب قرار دیا۔قطری وزیراعظم نے بھی پاکستان کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں، اور موجودہ مذاکرات اسی سمت ایک اہم قدم ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں جاری ہیں اور جلد ہی دوسرے دور کا آغاز متوقع ہے۔امریکی نائب صدر نے بھی ابتدائی تین دنوں میں ہونے والی پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ تعلقات کے نئے باب کا آغاز چاہتا ہے۔ادھر تہران میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنے یورینیم افزودگی کے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایران پہلے ہی تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرا چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تاہم اپنے سویلین جوہری پروگرام کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ایرانی صدر نے امریکی موقف میں تبدیلی کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران کے حقوق کو مسترد کرنے والا بیانیہ اب تبدیل ہو چکا ہے،جو ایک مثبت اشارہ ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکراتی عمل کامیابی سے آگے بڑھے گا تاہم خبردار کیا کہ بعض عناصر خطے میں استحکام نہیں چاہتے۔مجموعی طور پر یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں ممکنہ بہتری کی علامت ہیں بلکہ پاکستان کے فعال سفارتی کردار کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہیں،جسے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز