Home » پاکستان ہاکی کی بحالی کا ماسٹر پلان،طاہر زمان کا ورلڈ کپ سے قبل قومی ٹیم کو 30 انٹرنیشنل میچز کھلانے کا ہدف

پاکستان ہاکی کی بحالی کا ماسٹر پلان،طاہر زمان کا ورلڈ کپ سے قبل قومی ٹیم کو 30 انٹرنیشنل میچز کھلانے کا ہدف

by ahmedportugal
12 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوزڈیسک)ہاکی کے شہرہ آفاق کھلاڑی اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ ہائی پرفارمنس اولمپئن طاہر زمان نے کہا ہے کہ دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید کوچنگ صلاحیتوں اور عالمی معیار کی ٹریننگ کو اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے جبکہ پاکستان ہاکی کو مستقل بنیادوں پر مضبوط کرنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے طاہر زمان نے کہا کہ پاکستان ہاکی ٹریک پر تو آ گئی ہے مگر اسے برقرار رکھنے کے لیے کھلاڑیوں کی مسلسل گرومنگ اور مضبوط ٹیم مینجمنٹ سسٹم ضروری ہے،ٹیم مینجمنٹ اور سسٹم میں تسلسل نہ رکھا گیا تو حاصل کیا گیا تجربہ دوبارہ صفر سے شروع کرنا پڑ سکتا ہے۔طاہر زمان نے بتایا کہ وہ اس وقت ٹیم مینجمنٹ کا حصہ نہیں ہیں تاہم پرو لیگ کے دوران بطور آبزرور انگلینڈ جائیں گے جہاں وہ دنیا کی بہترین ٹیموں کی تکنیک،سکلز اور حکمت عملیوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کریں گے تاکہ ان تجربات کو پاکستانی کھلاڑیوں تک موثر انداز میں منتقل کیا جا سکے۔انہوں نے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم ہدف بتاتے ہوئے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ قومی ٹیم کو ورلڈ کپ سے قبل کم از کم 30 انٹرنیشنل میچز کھلائے جائیں، جس کے لیے ملکی اور غیر ملکی سطح پر ٹورنامنٹس اور سیریز کا انعقاد ضروری ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو سخت مقابلوں کا عادی بنانا ہوگا تاکہ وہ ایک مضبوط کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اتریں۔انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کو میچ کے آغاز سے ہی زیادہ متحرک اور حکمت عملی کے مطابق کھیلنا ہوگا تاکہ حریف ٹیم کو برتری نہ لینے دی جائے۔

طاہر زمان نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو انفرادی کھیل کے بجائے ٹیم ورک اور مربوط حکمت عملی پر توجہ دینا ہو گی،جس کے بغیر عالمی سطح پر کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے کوچز کی جدید ٹیکنیکس پر تربیت، ایجوکیشنل کورسز اور اسکلز ڈویلپمنٹ سیمینارز کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے تاکہ کوچنگ معیار کو عالمی سطح کے برابر لایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیادہ تر کوچز ایف آئی ایچ ڈویلپمنٹ کورسز سے گزر چکے ہیں جبکہ ہائی پرفارمنس لیول پر ماسٹر کوچنگ کا مرحلہ سب سے اہم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق وہ ایشیا میں ایف آئی ایچ ہائی پرفارمنس ماسٹر کوچنگ کا منفرد تجربہ رکھتے ہیں اور ان تجربات کو پاکستانی کھلاڑیوں اور کوچز کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز