دبئی(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی کے باعث قومی ٹیم تاریخ کی بدترین ٹیسٹ رینکنگ پر پہنچ گئی،انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کے بعد پاکستان کو آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں ایک درجے کی تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور قومی ٹیم پہلی بار نویں پوزیشن پر آگئی۔
ایگزو نیوز کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے جاری ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان 10 ٹیموں کی فہرست میں نویں نمبر پر موجود ہے،جو قومی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔انگلینڈ کے خلاف سیریز میں مسلسل شکستوں نے پاکستان کی رینکنگ پوزیشن کو مزید متاثر کیا اور قومی ٹیم پہلی مرتبہ ٹاپ آٹھ سے بھی باہر ہوگئی۔انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز پاکستان کیلئے انتہائی مایوس کن ثابت ہوئی،جہاں قومی ٹیم کو سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔سیریز میں ناکامی کے بعد پاکستان کی ٹیسٹ رینکنگ میں ایک درجے کی تنزلی ہوئی،جس کے نتیجے میں قومی ٹیم نویں نمبر پر پہنچ گئی۔قومی ٹیم کی موجودہ صورتحال کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان گزشتہ 20 ٹیسٹ میچز میں صرف 7 کامیابیاں حاصل کرسکا ہے جبکہ مسلسل ناکامیوں اور غیر مستقل کارکردگی کے باعث ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی پوزیشن بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔
پاکستان کی حالیہ ٹیسٹ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو قومی ٹیم گزشتہ 12 ٹیسٹ سیریز میں سے 6 میں وائٹ واش کا سامنا کر چکی ہے۔مسلسل سیریز میں ناکامیوں اور اہم مواقع پر ناقص کارکردگی نے قومی ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں ساکھ اور رینکنگ دونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔انگلینڈ کے خلاف سیریز میں وائٹ واش کے بعد سامنے آنے والی رینکنگ قومی ٹیم کی طویل عرصے سے جاری مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی ایک وقت کی مضبوط شناخت کے برعکس حالیہ برسوں میں ٹیم کو مستقل مزاجی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔قومی ٹیم کی جانب سے مختلف سیریز میں انفرادی طور پر اچھی کارکردگی کے باوجود مجموعی طور پر ٹیم اہم مواقع پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی،جس کا براہِ راست اثر آئی سی سی رینکنگ پر پڑا۔مسلسل شکستوں کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کی پوزیشن متاثر ہوئی بلکہ ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں مستقبل کی سمت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔پاکستان کا ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر پہنچنا اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ قومی ٹیم ماضی میں ٹیسٹ کرکٹ کی صفِ اول کی ٹیموں میں شمار ہوتی رہی ہے تاہم حالیہ عرصے میں مسلسل سیریز میں ناکامیوں اور وائٹ واش نے پاکستان کو رینکنگ ٹیبل کے نچلے حصے تک پہنچا دیا ہے۔
ماہرین اور شائقین کرکٹ کی جانب سے قومی ٹیم کی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر پاکستان جیسی باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے۔قومی ٹیسٹ ٹیم کی تاریخ کی بدترین رینکنگ نے پاکستان کرکٹ کے فیصلہ سازوں کیلئے بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ٹیم کے انتخاب،کھلاڑیوں کی کارکردگی،بیٹنگ اور بولنگ کے تسلسل سمیت طویل فارمیٹ کیلئے مستقبل کی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔انگلینڈ کے خلاف وائٹ واش کے بعد نویں پوزیشن پر پہنچنے والی پاکستانی ٹیم کیلئے اب سب سے بڑا چیلنج رینکنگ میں بہتری کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی کھوئی ہوئی مسابقتی حیثیت بحال کرنا ہے۔موجودہ صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ قومی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل کامیابیوں کیلئے محض انفرادی کارکردگی نہیں بلکہ ایک جامع اور مستقل حکمت عملی کی ضرورت ہے۔