اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے ہائی سپیڈ ڈیزل کو مہنگا اور پیٹرول کی موجودہ قیمت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے بعد ڈیزل استعمال کرنے والے ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے سے وابستہ صارفین پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 284 روپے 44 پیسے مقرر کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے سابقہ نرخ پر برقرار رکھا گیا ہے۔نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد ہوگیا ہے اور یہ نرخ اگلے سرکاری اعلان تک نافذ العمل رہیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاو اس فیصلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور صنعتی لاجسٹکس کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ ڈیزل کا استعمال براہِ راست تجارتی و پیداواری سرگرمیوں میں ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح پر دباو مزید بڑھا سکتا ہے۔دوسری جانب پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کے فیصلے کو شہری عوام کے لیے جزوی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں اور موٹر بائیکس میں استعمال ہوتا ہے تا ہم ٹرانسپورٹریونینز نے ڈیزل کی قیمت بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کرایوں میں اضافے کا عندیہ دیا ہے۔وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں آئندہ چند ہفتوں کے لیے حتمی ہیں اور نئی نظرثانی اگلے مقررہ جائزے میں کی جائے گی۔عوامی سطح پر اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی نرخوں کے تناسب سے مقامی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی دکھایا جائے تا کہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ترمیم کر دی،ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافہ،پیٹرول کی قیمت برقرار
5