Home » حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کا ایجنڈا نہیں،فوج فلسطینیوں کے خلاف استعمال نہیں ہو گی،عسکری ذرائع کا دھماکہ خیز اور دوٹوک بیان آ گیا

حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کا ایجنڈا نہیں،فوج فلسطینیوں کے خلاف استعمال نہیں ہو گی،عسکری ذرائع کا دھماکہ خیز اور دوٹوک بیان آ گیا

by ahmedportugal
2 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)فلسطین اور غزہ کے معاملے پر پاکستان کے کردار سے جڑے خدشات اور قیاس آرائیوں کے درمیان عسکری ذرائع نے ایک غیر معمولی اور دوٹوک وضاحت جاری کر دی ہے۔سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کا کسی بھی فورم پر حماس کو غیر مسلح کرنے کا کوئی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی پاک فوج کو فلسطینی عوام یا کسی مسلمان کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔عسکری ذرائع کے اس دھماکہ خیز موقف نے غزہ امن بورڈ،امریکی کردار اور پاکستان کی شمولیت سے متعلق جاری بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو دی گئی بریفنگ میں عسکری ذرائع نے امریکی صدر کے مجوزہ غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت سے متعلق ابہام دور کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی دباو یا یکطرفہ حکمت عملی کے تحت نہیں بلکہ آٹھ بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد سوچ سمجھ کر کیا گیا،اس پلیٹ فارم کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کو نہ تو حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور نہ ہی کسی بھی صورت فلسطینی عوام یا کسی مسلمان کے خلاف کوئی کردار ادا کیا جائے گا۔عسکری ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کی اصل طاقت صرف امریکہ کے پاس ہے اور اسی تناظر میں عالمی دباو پیدا کرنے کے لیے اس فورم میں شمولیت اختیار کی گئی،پاکستان کا موقف واضح ہے کہ غزہ مسئلے کا حل طاقت نہیں بلکہ انصاف اور عالمی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔

عسکری ذرائع نے عالمی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات مثالی ہیں،جہاں چین ہوتا ہے وہاں پاکستان کو فکر نہیں ہوتی اور جہاں پاکستان ہوتا ہے وہاں چین کو کوئی خدشہ نہیں ہوتا،برطانیہ اور یورپی ممالک کے بارے میں کہا گیا کہ وہ امریکہ کے اتحادی ضرور ہیں مگر اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔معرکہ حق سے متعلق گفتگو میں عسکری ذرائع نے کہا کہ تمام بڑے فیصلے وزیر اعظم کی جانب سے کیے گئے،فوج نے صرف اپنی پیشہ ورانہ رائے دی۔سات مئی کو بھارتی ڈی جی ایم او کی جانب سے موصول ہونے والے پیغام کا ایسا جواب دیا گیا کہ بھارت کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔عسکری قیادت نے واضح کیا کہ پاکستانی فوج اپنے ردعمل کے تعین میں مکمل خود مختار ہے۔دہشت گردی کے معاملے پر عسکری ذرائع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب تک نیت درست نہیں ہو گی،دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں،نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی آپریشن جاری ہیں،خصوصاً بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں گورننس کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہزاروں ملازمین ہونے کے باوجود کارکردگی تسلی بخش نہیں تاہم کے پی پولیس بہادر ہے اور فری ہینڈ ملے تو بہتر نتائج دے سکتی ہے۔طالبان سے متعلق گفتگو میں عسکری ذرائع نے کہا کہ انہیں واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی۔ آزاد کشمیر کے حوالے سے کہا گیا کہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ ایک واضح اور غیر متزلزل موقف ہے جبکہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈالنے کی کوششیں کرنے والوں کو ذہنی بیمار قرار دینے کے موقف پر فوج قائم ہے۔عسکری ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان میں کسی فرد،جماعت یا سیاست کو ریاست سے بالاتر نہیں ہونے دیا جائے گا۔یو اے ای اور بھارت کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے پاکستان کو کوئی مسئلہ نہیں،یو اے ای پاکستان کا قریبی دوست ہے۔بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ تعلقات کس طرح بہتر ہوئے ہیں۔خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی عدالتوں میں ہزاروں مقدمات کے التواء پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عسکری ذرائع نے سوال اٹھایا کہ اگر آپریشن نہ کیے جائیں تو کیا صوبے کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا جائے؟انہوں نے بتایا کہ صوبے میں وزیر اعلیٰ اور کور کمانڈر مل کر کام کر رہے ہیں تا کہ سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز