Home » پاکستان ہمہ گیر بحران میں،اختلافِ رائے جرم بن چکا،بولنے کا حق دو، ظلم کا انجام اچھا نہیں ہو گا،حکمران ہوش کے ناخن لیں،علامہ راجہ ناصر عباس نے خبردار کر دیا

پاکستان ہمہ گیر بحران میں،اختلافِ رائے جرم بن چکا،بولنے کا حق دو، ظلم کا انجام اچھا نہیں ہو گا،حکمران ہوش کے ناخن لیں،علامہ راجہ ناصر عباس نے خبردار کر دیا

by ahmedportugal
2 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک شدید،ہمہ گیر اور خطرناک بحران سے گزر رہا ہے،جہاں عوام کے بنیادی حقوق،آئینی ضمانتیں اور انسانی وقار مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں،اصل المیہ یہ ہے کہ جن کے ہاتھ میں اختیار اور طاقت ہے،وہی ریاست کی سافٹ پاور کو بے رحمی سے کچل رہے ہیں،جس سے ملک کا عالمی تشخص بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے اظہارِ یکجہتی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آج پاکستان میں سول سوسائٹی، وکلاء،انسانی حقوق کے کارکنان اور ہر وہ آواز جو سوال اٹھاتی ہے،دباو اور انتقامی کارروائیوں کا شکار ہے،اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے اور بولنے والوں کے لیے جیل، مقدمات اور تشدد مقدر بن چکے ہیں حالانکہ آئین پاکستان عوام کو آزادانہ رائے کے اظہار اور اپنی مرضی سے حکمران منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوامی فیصلوں کو پامال کیا جا رہا ہے اور انتخابات کو کھلے عام لوٹا گیا۔قائد حزبِ اختلاف کا کہنا تھا کہ ملک شدید سیاسی،معاشی اور سماجی بحران میں گھرا ہوا ہے،عوام کے زخم بے شمار ہیں اور جب انہیں انصاف نہیں ملتا تو وہ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں مگر افسوس کہ وہاں بھی اکثر مایوسی ان کا مقدر بنتی ہے۔

انہوں نے بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں عوام کے زخم آج بھی تازہ ہیں لیکن مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور مفاہمت کے بجائے طاقت اور آپریشن کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے،حالانکہ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ زندگی گزارنے کا حق ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یہ حق چھین لے،ہمارے معاشرے میں انسانی جان کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ قرآن واضح پیغام دیتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے،اسلام احتساب کا درس دیتا ہے مگر انتقام کی اجازت نہیں دیتا،کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ کئی دہائیوں سے جاری آپریشنز کے باوجود آخر کون سا مسئلہ حل ہوا؟اگر ایک گھر میں نا انصافی ہو تو وہ ٹوٹ جاتا ہے اور جب ریاست میں نا انصافی عام ہو جائے تو پورا ملک بکھرنے لگتا ہے،حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر رحم کریں اور اسے مزید تباہی کی طرف دھکیلنے سے باز آئیں کیونکہ جس تباہی کو وہ جنم دے رہے ہیں،کل اسے سنبھالنا ان کے بس میں نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آج کروڑوں پاکستانی ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور اگر کوئی اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اس کا جواب گولی،لاٹھی اور مقدمات سے دیا جاتا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ جن لوگوں کو حق اور انصاف نہیں مل رہا،وہ آخر کہاں جائیں؟قائدِ حزبِ اختلاف نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مظلوموں کی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان شعور اور حریت کی علامت ہیں،اگر حکمران واقعی دانشمند ہیں تو نوجوانوں میں شعور کو فروغ دیں،نہ کہ ہر آزاد آواز کو گولی یا جیل کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کریں،ایمان مزاری کے خلاف چھ ماہ بعد پولیس اہلکاروں پر تشدد کا مقدمہ درج کرنا محض انہیں جیل میں ڈالنے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے،جو نہ صرف سراسر زیادتی ہے بلکہ عدلیہ کے وقار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جب لوگ عدلیہ سے مایوس ہو جاتے ہیں تو وہ اپنا انصاف خود لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں،جو کسی بھی ریاست کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہے،اگر آئین بولنے کی اجازت دیتا ہے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بولے ہی نہ؟کیا اس ملک کو قبرستان بنا دیا جائے؟۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز