جدہ(امیر محمد خان سے)جدہ میں قونصل جنرل پاکستان سید مصطفی ربانی نے پاکستانی سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے مربوط اور موثر سرمایہ کاری حکمت عملی پر سختی سے عمل کریں،اس عزم کے ساتھ کہ قونصل خانہ ہر ممکن معاونت فراہم کرے گا اور اس کے دروازے رہنمائی کے لیے ہر وقت کھلے رہیں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سید مصطفی ربانی جدہ میں پاکستان انویسٹرز کی ایک اہم تقریب سے خطاب کر رہے تھے،جس میں کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم مارکیٹ فراہم کرتا ہے،جہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے مربوط نظام موجود ہے اور متعلقہ ادارے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے چوہدری شفقت محمود کو پاکستان انویسٹرز فار سعودی عرب کا چیئرمین مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری شفقت محمود نے بتایا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے ریاض اور دمام میں پاکستان ایگزیکٹو فورم کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے،جس کے چیئرمین منیر احمد شاد مقرر ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان انویسٹر فورم (پی آئی ایف)، ریاض،مشرقی صوبہ(دمام) اور پاکستان ایگزیکٹو فورم کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں،جس کا مقصد سرمایہ کاروں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینا اور مشترکہ مواقع پیدا کرنا ہے۔چوہدری شفقت محمود کے مطابق فورمز کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں کئی اہم کاروباری معاہدے طے پا چکے ہیں،جن میں 124 ملین، 38 ملین، 7 ملین اور 3 ملین ڈالر کے نمایاں معاہدے شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں پی آئی ایف کے ایک وفد نے سوڈان کا دورہ بھی کیا،جہاں معدنیات،توانائی،زراعت،انفراسٹرکچر اور صنعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر اعلیٰ حکام سے تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ ہونے والے آن لائن اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں موجود پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے زراعت،سیاحت،معدنیات اور آئی ٹی کے شعبوں میں وسیع مواقع دستیاب ہیں،جن سے فائدہ اٹھا کر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
سیکریٹری جنرل عبدالخالق لک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل پر زور دیا اور کہا کہ تعلیم،صحت،رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مضبوط کمیونٹی مثبت کردار اور اجتماعی ذمہ داریوں کے احساس سے تشکیل پاتی ہے۔تقریب سے منیر احمد شاد،چیئرمین پاکستان ایگزیکٹو گروپ اور غلام مصطفی،صدر پی آئی ایف ریاض نے بھی خطاب کیا جبکہ مقررین نے سعودی عرب میں پاکستانی سرمایہ کاری،ہنرمندی کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان روشن اقتصادی مستقبل کی امید ظاہر کی۔