اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھرپور سفارتی کوششوں نے عالمی منظرنامے پر بڑی پیش رفت رقم کرتے ہوئے ایک ممکنہ تباہ کن جنگ کو وقتی طور پر ٹال دیا ہے،جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ موخر کرنے کا اعلان کر دیا،اس غیر معمولی بریک تھرو نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو بڑے سانحے سے بچا لیا بلکہ پاکستان کو ایک موثر اور متحرک سفارتی قوت کے طور پر بھی نمایاں کر دیا ہے،جس کی کوششوں سے اب کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور امن کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے کا عندیہ دیا ہے،یہ اہم پیش رفت وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے بعد سامنے آئی،جنہوں نے امریکا سے درخواست کی تھی کہ ایران پر فوری حملے کو موخر کر کے سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی کو دو ہفتوں کیلئے موخر کیا جا رہا ہے اور اس دوران دو طرفہ جنگ بندی نافذ رہے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، محفوظ اور فوری طور پر کھولنے پر آمادہ ہو،اس فیصلے کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور پائیدار امن کیلئے راہ ہموار کرنا ہے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے نکات کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابل عمل سمجھا جا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم امور پر اتفاق بھی ہو چکا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے بھی اپیل کی کہ وہ آبنائے ہرمز کو محدود مدت کیلئے کھول دے تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے۔حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی اسی متوازن حکمت عملی کے باعث دونوں فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔اہم پیش رفت کے طور پر ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات اسلام آباد میں کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے،جہاں پاکستان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ایرانی حکام کے مطابق یہ مذاکرات دس اپریل سے شروع ہوں گے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن تک جاری رہ سکتے ہیں،جن کا مقصد ایک حتمی اور دیرپا معاہدے تک پہنچنا ہے۔علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے جبکہ مذاکراتی عمل کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رہے گا۔ماہرین کے مطابق اگر یہ عمل کامیاب رہا تو نہ صرف ایک بڑے ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا استحکام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال میں پاکستان کی سفارتکاری نے اہم کردار ادا کیا ہے،جس کے نتیجے میں ایک ممکنہ بڑے سانحے کو وقتی طور پر ٹال دیا گیا ہے اور خطے میں امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔