اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور ثالثی کے عمل کا سہرا وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کے کردار کو جاتا ہے،جنہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایگزو نیوزکے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں،جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو اس دورے کی دعوت دی تھی،جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینا ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ریاستی اداروں اور ان کے سربراہان کو سیاسی تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے اور سیاسی اختلافات کو صرف سیاسی پلیٹ فارم تک محدود رکھا جانا چاہیے تاکہ قومی اداروں کی ساکھ متاثر نہ ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط میں بہتری سے براہ راست فائدہ عوام کو پہنچے گا،خصوصاً تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہوں گے،اگر ایران پر سے پابندیاں ہٹتی ہیں تو خطے میں گیس کی قلت جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیر مملکت نے یہ بھی کہا کہ حکومت سکلڈ لیبر فورس کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور عوام کو ہنر حاصل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے،کیونکہ موجودہ عالمی مارکیٹ میں صرف ہنر مند افراد کے لیے ہی مواقع دستیاب ہیں۔ان کے مطابق بیرون ممالک میں روزگار کے مواقع بھی اب صرف ہنر مند افراد تک محدود ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن کو متعدد بار مذاکرات اور رابطوں کی پیشکش کر چکے ہیں،کیونکہ تعلقات میں پیش رفت کے لیے دونوں فریقین کا کردار ضروری ہوتا ہے،بعض مثبت اشارے سامنے آئے ہیں اور برف پگھل رہی ہے تاہم مستقبل میں پیش رفت کی رفتار کا انحصار حالات اور مذاکراتی عمل پر ہو گا۔