Home » ریاست کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی،عادل راجہ، معید پیرزادہ،صابر شاکر،شاہین صہبائی سمیت پانچ ملزمان کو دو،دو بار عمر قید کی سزا سنا دی گئی

ریاست کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی،عادل راجہ، معید پیرزادہ،صابر شاکر،شاہین صہبائی سمیت پانچ ملزمان کو دو،دو بار عمر قید کی سزا سنا دی گئی

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزمان عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر،شاہین صہبائی اور معید پیرزادہ کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال قید کی اضافی سزائیں بھی سنائیں جبکہ مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق یہ فیصلہ انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے سنایا۔عدالت نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،جسے کچھ ہی دیر بعد سنایا گیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمان پر 9 مئی کے واقعات کے دوران سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم چلانے،اشتعال انگیزی پھیلانے اور عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کے الزامات ثابت ہوئے۔عدالت نے تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں شاہین صہبائی،حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا دی گئی۔اسی طرح عادل راجہ،حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو بھی ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے جرم میں دو،دو بار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔پراسیکیوشن نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان نے 9 مئی کے واقعات کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال دلانے والا مواد پھیلایا،جس سے امن و امان کی صورتحال کو نقصان پہنچا اور عوامی جذبات کو بھڑکایا گیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان بیرونِ ملک مقیم تھے اور عدالتی کارروائی کے دوران مسلسل غیر حاضر رہے،جس کے باعث انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت ان کا ٹرائل غیر حاضری میں مکمل کیا گیا۔جج طاہر عباس سپرا نے فیصلے میں واضح کیا کہ قانون کے مطابق دہشت گردی کے مقدمات میں ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے ملزمان کے لیے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ کو سرکاری وکیل مقرر کیا گیا،جو عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان کی جانب سے پیش ہوئے۔پراسیکیوشن کی نمائندگی راجا نوید حسین کیانی نے کی،جنہوں نے شواہد اور گواہان کی روشنی میں مقدمہ ثابت کیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منظم انداز میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا،عوام میں اشتعال پھیلانا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اور ایسے جرائم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ناگزیر ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز