اسلام آباد(ایگزو نیوزڈیسک)امریکا ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے نرخوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاون کے آپشن پر غور شروع کردیا ہے،جس کے تحت ہفتے میں تین روز تعطیل اور کاروباری و سرکاری سرگرمیوں کو محدود کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس کے نتیجے میں عوام و معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایندھن کی کھپت کم کرنے اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لیے سمارٹ لاک ڈاون کے ممکنہ نفاذ پر غور شروع کردیا ہے۔اس حوالے سے اجلاس میں زیرِ غور تجاویز اور فیصلوں کا حتمی اعلان منگل کی شام متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ سمارٹ لاک ڈاون کے تحت سرکاری اور نجی دفاتر میں ہفتے کے چار دن کام اور تین دن تعطیلات کی تجویز زیرِ غور ہے۔اس فارمولے کے تحت جمعہ،ہفتہ اور اتوار کو تعطیل رکھنے کے ساتھ ملک میں نقل و حمل کی سرگرمیوں کو بھی محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی لائی جاسکے۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کے لیے روٹیشن کی بنیاد پر کام کرنے کا فارمولہ بھی زیر غور ہے،جس کے ذریعے سرکاری امور کو مکمل طور پر معطل کیے بغیر دفاتر میں حاضری اور سفری سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی لانے کے لیے 50 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراونڈ کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔اس کے علاوہ تین روز تک بازاروں کی بندش اور کاروباری مراکز کے اوقات کار محدود کرنے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔حکومتی سطح پر زیر غور اقدامات کا بنیادی مقصد پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کمی،سرکاری و نجی شعبے کی آمدورفت محدود کرنا اور موجودہ عالمی توانائی بحران کے اثرات کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے تاہم ان تجاویز کے حتمی نفاذ کا فیصلہ حکومت کی جانب سے مزید مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری جانب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکلوں،رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے پیٹرول ریلیف سکیم کا اعلان کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی اس ریلیف سکیم کی منظوری دے دی ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق عالمی منڈی میں مسلسل اتار چڑھاو کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب یومیہ بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہفتے میں تین تعطیلات کی تجویز کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ شعبوں سے ورکنگ شیڈول طلب کیا گیا ہے۔وزیر پیٹرولیم کے مطابق مجوزہ اقدامات کا مقصد ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں کمی لانا ہے۔حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کی ورکنگ اور تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حکومت نے 15 ستمبر سے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 10 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 380 روپے 24 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کے لیے سفری اخراجات اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں پر دباو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ حکومت کو ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے مختلف اقدامات پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق رواں برس مارچ کے پہلے ہفتے میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 266 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 281 روپے فی لیٹر کے قریب تھی تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور برینٹ کروڈ کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں،جس کے باعث حکومت کو ایک طرف محدود آمدن والے صارفین کے لیے ریلیف اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں اور دوسری جانب ایندھن کی مجموعی کھپت کم کرنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاون سمیت مختلف تجاویز پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔حکومت کی جانب سے ہفتے میں تین تعطیلات،سرکاری و نجی دفاتر میں چار روزہ ورکنگ،بازاروں کی محدود بندش،سرکاری گاڑیوں کو گراونڈ کرنے اور اوقات کار میں کمی کی تجاویز پر حتمی فیصلہ متعلقہ اداروں کی ورکنگ اور مشاورت کے بعد متوقع ہے۔