Home » برطانوی سرزمین پر فیلڈ مارشل کے خلاف دھمکی آمیز تقریر اور قتل کی دھمکی،پاکستان کا شدید ردعمل،تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

برطانوی سرزمین پر فیلڈ مارشل کے خلاف دھمکی آمیز تقریر اور قتل کی دھمکی،پاکستان کا شدید ردعمل،تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)برطانوی سرزمین پر فیلڈ مارشل پاکستان کے خلاف کی جانے والی دھمکی آمیز تقریر اور قتل کی کھلی دھمکیوں نے سفارتی اور سکیورٹی سطح پر سنگین تشویش پیدا کر دی ہے، جس پر پاکستان نے فوری اور سخت ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ سے شفاف تحقیقات اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف ریاستی اداروں کے خلاف کھلی اشتعال انگیزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور برطانیہ کے اپنے انسداد دہشت گردی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے، جسے آزادی اظہار کے نام پر ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان نے فیلڈ مارشل پاکستان کے خلاف برطانیہ میں کی جانے والی اشتعال انگیز تقریر اور قتل کی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے فوری تحقیقات اور ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سکیورٹی اور مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی سے جڑا ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور برطانیہ کے اپنے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے لیے بھی ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔ذرائع کے مطابق 23 دسمبر کو پاکستان تحریک انصاف برطانیہ کے آفیشل ایکس اکاونٹ سے ایک انتہائی اشتعال انگیز ویڈیو جاری کی گئی،جس میں برطانوی سرزمین پر موجود مظاہرین نے ریاستی اداروں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی اور فیلڈ مارشل پاکستان کو قتل کی کھلی دھمکیاں دیں۔ویڈیو کو بعد ازاں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز اور بھگوڑے یوٹیوبرز نے منظم انداز میں پھیلایا،جسے سکیورٹی ماہرین نے اشتعال انگیزی اور دہشت گردی پر اکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تمام اخلاقی اور قانونی حدود عبور کر لی ہیں اور پاکستان مخالف ایجنڈے کے تحت بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔برطانوی سرزمین کو ریاست مخالف پروپیگنڈے،فوج مخالف بیانیے اور نفرت انگیز مہم کے لیے استعمال کرنا عالمی قوانین اور ذمہ دار ریاستی طرزِ عمل کے منافی ہے۔پاکستانی حکام نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو اشتعال انگیزی،تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔اسی طرح برطانیہ کا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ بھی نفرت انگیز اور پرتشدد تقاریر کی حوصلہ افزائی کو سنگین جرم قرار دیتا ہے۔اس تناظر میں برطانوی سرزمین پر اس نوعیت کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے با ضابطہ طور پر برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرے اور ملوث افراد کے خلاف موثر قانونی کارروائی عمل میں لائے۔پاکستان کا موقف ہے کہ یہ معاملہ آزادی اظہارِ رائے نہیں بلکہ کھلی اشتعال انگیزی،نفرت انگیز تقریر اور دہشت گردی پر اکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔

ماہرین کے مطابق برطانیہ میں اس طرح کی دھمکی آمیز اور پرتشدد زبان بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اگر اس پر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ دیگر انتہا پسند عناصر کے لیے بھی خطرناک مثال بن سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب برطانوی سرزمین سے ریاست مخالف ایجنڈے کو ہوا دینا اس کی منافقانہ پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ برطانیہ عالمی قوانین اور ذمہ دار ریاستی رویے کے اپنے دعووں پر کس حد تک عملدرآمد کرتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز