Home » شام میں اسرائیلی حملے کی پاکستان نے شدید مذمت کر دی،ابو الظہور ایئربیس پر کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا

شام میں اسرائیلی حملے کی پاکستان نے شدید مذمت کر دی،ابو الظہور ایئربیس پر کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا

by ahmedportugal
17 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان نے شام کے صوبے ادلب میں ابو الظہور ایئربیس پر اسرائیلی فوج کی فضائی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کی روک تھام کے لیے موثر کردار ادا کرے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں پر اسرائیل کو جوابدہ بنائے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن،استحکام اور خوشحالی کے لیے تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرنا ہو گا۔پاکستان کا یہ ردعمل 18 اگست 2026 کو شمال مغربی شام میں ابو الظہور ایئربیس پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔شام کے سرکاری ذرائع کے مطابق حملے میں رن وے اور سٹوریج تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مجموعی طور پر آٹھ فضائی حملے کیے گئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دفتر خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو متاثر کرتے ہیں اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی کارروائیوں کا نوٹس لے اور بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف موثر اقدامات کرے۔شامی سرکاری میڈیا کے مطابق ابو الظہور ایئربیس کے رن وے اور سٹوریج ایریاز کو حملے میں نقصان پہنچا۔یہ ایئربیس شمال مغربی شام میں واقع ہے اور طویل عرصے سے غیر فعال رہا ہے تاہم حالیہ عرصے میں اس کی بحالی کی سرگرمیوں نے اسے دوبارہ علاقائی توجہ کا مرکز بنا دیا تھا۔اسرائیل کی جانب سے کارروائی کے حوالے سے موقف یہ سامنے آیا ہے کہ شام کی جانب سے ایئربیس پر ممکنہ ترک فوجی تعیناتی موجودہ سکیورٹی انتظامات کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتی تھی۔ترکیہ نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

عرب اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے سے قبل ایک ترک فوجی وفد نے ابو الظہور ایئربیس کا دورہ کیا تھا اور وہاں رن ویز کی بحالی کے حوالے سے سرگرمیاں جاری تھیں۔ اسی تناظر میں بعض تجزیوں میں حملے کو شام میں بڑھتے ہوئے ترک اثرورسوخ اور ممکنہ فوجی تعاون کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے تاہم حملے کے اصل محرکات سے متعلق مختلف فریقوں کے موقف مختلف ہیں۔امریکی خصوصی ایلچی برائے شام ٹام بارک نے بھی اسرائیلی حملے کو ”غیر ضروری کشیدگی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ترکیہ،اسرائیل اور شام کے درمیان فوجی رابطہ کاری کا ایسا طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کررہا ہے جس سے مستقبل میں غلط فہمی یا براہِ راست تصادم کے خطرے کو کم کیا جاسکے۔ترکیہ نے بھی اسرائیلی کارروائی کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں اس قسم کی کارروائیاں علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انقرہ نے اسرائیل کے ان دعووں کو بھی مسترد کیا ہے جن کے مطابق ترک فوجی تعیناتی اسرائیل کے لیے سکیورٹی خطرہ بن سکتی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں شام کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شام کے امن،خودمختاری،علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔پاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ علاقائی تنازعات کا حل فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ابو الظہور ایئربیس پر حملے کے بعد شام، اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان کشیدگی میں ایک نیا پہلو پیدا ہوگیا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے فریقین کے درمیان رابطہ کاری کا نظام قائم کرنے کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی براہِ راست فوجی تصادم کے امکانات کو محدود کرنا چاہتا ہے۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ اسرائیل کی کارروائیوں کے حوالے سے موثر بین الاقوامی ردعمل وقت کی ضرورت ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز