اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی کسی جنگ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتی تاہم پاکستان کے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق سینیٹر رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کر چکا ہے اور مختلف عالمی ممالک کے ساتھ رابطوں میں ہے تاکہ تنازع کے اثرات کا موثر انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان غلط کو غلط اور درست کو درست کہنے کی طاقت رکھتا ہے اور عالمی سطح پر اس موقف کی عکاسی کرتا ہے۔مشیر وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دفاعی معاہدہ ضرورت کے وقت نافذ کیا جا سکتا ہے لیکن ملک کا بنیادی موقف یہ ہے کہ وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی اقدام میں پاکستان کی اولین ترجیح دفاع وطن ہوگی اور تمام فیصلے اسی اصول کے تحت کیے جائیں گے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایران، قطر، سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی پالیسی کسی بھی تنازعے میں براہِ راست شمولیت نہیں لیکن دفاعی تیاریاں ہر ممکن حد تک یقینی بنائی جا رہی ہیں۔ان کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان اپنی پالیسی پر مستحکم ہے اور ملک کے اندرونی و بیرونی تحفظ کے لیے ضروری اقدامات بروقت کیے جائیں گے۔اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں میں فعال رہنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی غیر ضروری جنگ میں ملوث ہونے سے گریز کرے گا۔