Home » مالی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل،دباو کے باوجود پاکستان نے یو اے ای کا سارا قرض چکا دیا

مالی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل،دباو کے باوجود پاکستان نے یو اے ای کا سارا قرض چکا دیا

by ahmedportugal
8 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)مالی دباو اور بین الاقوامی تقاضوں کے باوجود پاکستان نے مالی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کا تمام واجب الادا قرض ادا کر دیا ہے،اس پیش رفت کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے،جو نہ صرف پاکستان کے مالیاتی نظم و ضبط بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کی مضبوطی کا بھی عکاس ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو قرض کی مد میں مزید ایک ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں،جس کے بعد مجموعی طور پر 3.45 ارب ڈالر کی ادائیگی مکمل ہو گئی ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق حالیہ ادائیگی ابوظہبی فنڈ فار ڈویلپمنٹ کو کی گئی جبکہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے 2.45 ارب ڈالر ادا کیے گئے تھے۔مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق یہ ادائیگیاں بیرونی مالی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل کا حصہ ہیں،جن کا مقصد نہ صرف عالمی مالیاتی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے بلکہ مالیاتی نظم و ضبط کو بھی یقینی بنانا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت پر قرض کی واپسی پاکستان کی معاشی سنجیدگی اور ذمہ داری کا واضح اظہار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ادائیگی کے بعد یو اے ای کو مجموعی 3.45 ارب ڈالر واپس کیے جا چکے ہیں،جس سے بیرونی مالی بوجھ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی مالیاتی اداروں اور شراکت دار ممالک کے اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔سٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔17 اپریل تک مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 15 ارب 9 کروڑ 76 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے،جس میں 1.80 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔اسی طرح کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی 8.60 کروڑ ڈالر اضافے کے بعد 5.53 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

مرکزی بینک کے مطابق مجموعی قومی زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران 10.40 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔مزید برآں اسی عرصے میں سعودی عرب کی جانب سے ایک ارب ڈالر جمع کرائے گئے جبکہ یو اے ای کو ایک ارب ڈالر کی ادائیگی بھی کی گئی،جو آئندہ ہفتے کے اعداد و شمار میں شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حالیہ بین الاقوامی معاشی صورتحال کے تناظر میں رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا،جس کے بعد پاکستان نے فوری ادائیگی کا فیصلہ کیا۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قرض پر تقریباً 6 فیصد سالانہ شرح سود ادا کیا جا رہا تھا جبکہ ماضی میں اس رقم کو رول اوور کیا جاتا رہا۔پس منظر کے طور پر بتایا جاتا ہے کہ پاکستان نے 2018 میں یو اے ای سے دو ارب ڈالر کے ڈپازٹس حاصل کیے تھے جبکہ 2023 میں مزید ایک ارب ڈالر لیا گیا۔اس کے علاوہ تقریباً 45 کروڑ ڈالر کا ایک پرانا قرض بھی موجود تھا،جو کئی دہائیوں قبل حاصل کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ قرض کی بروقت واپسی اور ذخائر میں استحکام پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے تاہم آئندہ مہینوں میں بیرونی ادائیگیوں اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا بدستور ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز