Home » آپریشن ’غضب للحق‘ میں پاک فوج کی موثر کارروائیاں جاری،481 افغان طالبان ہلاک،سینکڑوں زخمی،درجنوں چوکیاں تباہ

آپریشن ’غضب للحق‘ میں پاک فوج کی موثر کارروائیاں جاری،481 افغان طالبان ہلاک،سینکڑوں زخمی،درجنوں چوکیاں تباہ

by ahmedportugal
4 views
A+A-
Reset

اسلام آباد (ایگزو نیوز ڈیسک)پاک فوج نے افغان طالبان کی حالیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے آپریشن ”غضب للحق“ میں زبردست پیش رفت کی ہے،مختلف کارروائیوں کے دوران 481 افغان طالبان ہلاک اور 696 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ دشمن کی 226 چیک پوسٹیں تباہ اور 35 پر قبضہ حاصل کیا گیا،آپریشن کے دوران 198 ٹینک،بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ بھی تباہ کیا گیا اور افغانستان بھر میں 56 اہم مقامات کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا،وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے جاری ہیں اور مقررہ اہداف کے مکمل ہونے تک جاری رہیں گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے آپریشن”غضب للحق“ سے متعلق تازہ تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کے دوران افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا ہے،اب تک 481 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 696 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،افغانستان کی جانب سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کے منہ توڑ جواب کے لیے یہ آپریشن کامیابی سے جاری ہے،پاک افغان سرحد پر افغان طالبان،فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف موثر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم کے قریب دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنایا گیا،جس کے دوران افغان طالبان کا ایک سرغنہ قہرمان اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا،مذکورہ کمانڈر کا تعلق جلال آباد سے تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران افغان طالبان رجیم کی 226 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 35 چیک پوسٹوں پر قبضہ حاصل کیا گیا، 198 ٹینک ،بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ بھی تباہ کیا گیا ہے،افغانستان بھر میں 56 مختلف مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس سے مخالف قوتوں کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دینا ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مقررہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے۔

یاد رہے کہ 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے بعد یہ کارروائیاں شروع کی گئیں۔سرکاری موقف کے مطابق پاکستان نے افغانستان کی حدود میں مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اور کابل،قندھار اور پکتیا سمیت متعدد علاقوں میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔دوسری جانب ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی تناو کے اثرات دونوں ممالک کے تعلقات پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز