کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام اور ڈیجیٹل ترقی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور آئی ٹی سیکٹر ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے،آئندہ چند برسوں میں پاکستان دنیا کی نمایاں ڈیجیٹل معیشتوں میں شمار ہو گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی میں 26 ویں آئی ٹی سی این ایشیا نمائش اور کانفرنس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ پاکستان نے 2022 میں ڈیفالٹ کے خطرے اور 40 فیصد افراط زر جیسے چیلنجز کا سامنا کیا مگر آج افراط زر سنگل ڈیجیٹ میں آ چکی ہے اور شرح سود 11 فیصد تک کم ہو گئی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں آئی ٹی سیکٹر میں پاکستان کی عالمی سطح پر کارکردگی نمایاں رہی، خواتین کی مالی شمولیت میں اضافہ ہوا، انٹرنیٹ کے استعمال میں 24 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مختلف آئی ٹی شعبوں میں 100 فیصد تک نمو دیکھی گئی۔وزیر نے بتایا کہ حکومت ہر سال پانچ سے دس لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت فراہم کر رہی ہے، جبکہ رواں سال بھی دس لاکھ نوجوانوں کو سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے کورسز میں تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے ڈیجیٹل آئی ڈی سسٹم کی دسمبر میں شروعات اور نوجوان طبقے کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس کی بنیاد ہے۔شزا فاطمہ خواجہ نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت (SIFC) کے قیام، فائبرائزیشن اور سب میرین کیبلز منصوبوں، سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی بہتری، اسپیکٹرم میں توسیع اور جی 5 سروس کے آغاز پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے سائبر سیکیورٹی میں شہریوں اور نوجوانوں کے کردار کو سراہا اور کرپٹو کونسل کے قیام سے ڈیجیٹل اثاثوں کی ترقی کی اہمیت اجاگر کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی مارکیٹنگ کے لیے متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کو راغب کیا جا رہا ہے تاکہ ملک ڈیجیٹل انقلاب کے بھرپور فوائد حاصل کرے اور معیشت کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے۔
پاکستان ڈیجیٹل انقلاب کی جانب گامزن،آئی ٹی سیکٹر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن گیا،وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ کا دعویٰ
9