اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد ملک کی عسکری قیادت سے متعلق قانون سازی کے اہم ترین مراحل مکمل ہوگئے، صدرمملکت آصف علی زرداری نے پاک فوج سمیت تینوں مسلح افواج سے متعلق چاروں ترمیمی قوانین پر باضابطہ دستخط کر دیے،جس کے ساتھ ہی یہ قوانین باقاعدہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گئے ہیں،جس سے عسکری ڈھانچے،اختیارات کی تقسیم اور اعلیٰ دفاعی حکمت عملی میں نئی تبدیلیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔
ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025،پاکستان ایئر فورس(ترمیمی)بل 2025 اور پاکستان نیوی (ترمیمی)بل 2025 کی منظوری دے دی ہے۔ان ترامیم کے بعد دفاعی قیادت کا نیا خطِ منحنی واضح ہوگیا ہے،جس کے تحت مستقبل میں عسکری فیصلوں اور سٹریٹجک کنٹرول کا نظام نئے پیرامیٹرز کے مطابق آگے بڑھے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں کی گئی مرکزی ترمیم کے تحت آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات بھی استعمال کریں گے۔چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدتِ ملازمت نوٹیفکیشن کے اجرا سے شروع ہو گی۔مزید یہ کہ اگر کسی جنرل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی جاتی ہے تو وہ ذیلی سیکشن 2 کے تحت خدمات انجام دیں گے۔اس پورے نظام کے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین وفاقی حکومت کرے گی۔ترمیم کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور ہو گا،جو ملکی دفاعی اداروں کی انتظامی ساخت میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔اس کے بعد دفاعی سٹریٹجی کا محور چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت آنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
بل کے مطابق آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وزیر اعظم قومی سٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کا تقرر تین سال کے لیے کریں گے،جس کی تعیناتی، شرائط و قواعد و ضوابط کا مکمل فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔مزید یہ کہ وزیراعظم اپنے اختیار کے تحت کمانڈر کی تقرری میں مزید 3 سال کی توسیع بھی کرسکیں گے اور اس فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔قانون کے مطابق کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ پر ریٹائرمنٹ کی عمر،سروس کی حد اور برطرفی کے عمومی قوانین لاگو نہیں ہوں گے اور وہ پاکستان آرمی میں جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے سکیں گے۔ماہرین دفاعی امور کا کہنا ہے کہ یہ شق پاکستان کے سٹریٹجک سینٹر آف کمانڈ کو ایک مستقل اور مضبوط قانونی حیثیت دینے کی جانب اہم قدم ہے۔پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کے ایکٹ میں یہ ترامیم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں جغرافیائی تناو،فوجی طاقت کے توازن اور داخلی سلامتی کے چیلنجز بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق نئی ساخت ملک کے دفاعی فیصلوں میں رفتار،ہم آہنگی اور کمانڈ چین کے معیار کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گی۔سیاسی و آئینی ماہرین کے مطابق اس قانون سازی کے بعد دفاعی اسٹیبلشمنٹ میں اختیارات کی ایک نئی حد بندی سامنے آئی ہے جس کے دور رس اثرات ملکی پالیسیوں اور سول ملٹری تعلقات پر پڑسکتے ہیں تا ہم حکومتی حلقے اسے ” دفاعی نظام کو نئی جغرافیائی حقیقتوں کے مطابق مستحکم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم “ قرار دے رہے ہیں۔قانونی ماہرین آنے والے دنوں میں اس قانون کے عملی اطلاق،ممکنہ چیلنجز اور پاکستان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹرکچر پر پڑنے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے منتظر ہیں۔