Home » ٹیکس رعایتوں کا تہلکہ خیز انکشاف،دو سال میں 8 ہزار ارب سے زائد ٹیکس چھوٹ،اقتصادی سروے کے چونکا دینے والے اعداد و شمار

ٹیکس رعایتوں کا تہلکہ خیز انکشاف،دو سال میں 8 ہزار ارب سے زائد ٹیکس چھوٹ،اقتصادی سروے کے چونکا دینے والے اعداد و شمار

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اقتصادی سروے برائے مالی سال 2025-26 میں سامنے آنے والے اعداد و شمار نے ٹیکس پالیسیوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،جس کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف شعبوں کو مجموعی طور پر 8 ہزار 182 ارب روپے کی ٹیکس رعایتیں دی گئیں۔سرکاری دستاویزات میں ان رعایتوں کو ”ٹیکس اخراجات“ قرار دیا گیا ہے جبکہ ماہرین اسے قومی ریونیو پر نمایاں بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کو مالی خسارے،مہنگائی اور ٹیکس نیٹ میں توسیع جیسے بڑے معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اقتصادی سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مختلف شعبوں کو مجموعی طور پر 8 ہزار 182 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی،جسے سرکاری دستاویزات میں ” ٹیکس اخراجات“ قرار دیا گیا ہے۔اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2024-25 میں 5 ہزار 840 ارب روپے کی ٹیکس رعایتیں فراہم کی گئیں جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران مزید 2 ہزار 352 ارب روپے کا ٹیکس استثنٰی دیا گیا۔اس طرح مجموعی طور پر دو سال میں دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا حجم 8 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔دستاویز کے مطابق یہ رعایتیں انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں دی گئیں۔ مالی سال 2025-26 میں سب سے زیادہ چھوٹ سیلز ٹیکس کے شعبے میں دی گئی،جہاں 1 ہزار 273 ارب روپے کا استثنٰی ریکارڈ کیا گیا۔اسی عرصے کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 560 ارب روپے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی میں 499 ارب روپے کی رعایت فراہم کی گئی۔

اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس کی چھوٹ درآمدی اشیاء اور مقامی سطح پر سپلائی دونوں پر لاگو رہی،جس کا مقصد مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں کو سہولت فراہم کرنا تھا۔مزید برآں فاٹا کے علاقوں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) سے وابستہ منصوبوں کو بھی نمایاں ٹیکس مراعات حاصل رہیں جبکہ آٹو موبائل سیکٹر کو ٹیکس کریڈٹس کے ذریعے فائدہ پہنچایا گیا۔ماہرین معاشیات کے مطابق اگرچہ ٹیکس رعایتیں بعض شعبوں کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے دی جاتی ہیں تاہم اس کے باعث قومی خزانے کو ہونے والے ریونیو نقصان اور مالیاتی دباو پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اقتصادی سروے میں پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت کو مالی خسارے پر قابو پانے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے چیلنجز کا سامنا ہے،جس کے باعث ٹیکس پالیسیوں کی شفافیت اور موثریت پر بحث میں تیزی آنے کا امکان ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز