پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کل (منگل) کو وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کرے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈرڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ ہم کل تک یہ سمجھ رہے تھے کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور ہوچکا ہے، اسی بنیاد پر نئے وزیراعلیٰ کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ گورنر خیبر پختونخوا نے استعفیٰ منظور ہی نہیں کیا اور اعتراضات لگا کر واپس بھیج دیا ہے، جس سے پورا عمل آئینی ابہام کا شکار ہوگیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے موقف اختیار کیا کہ قانونی ماہرین کے درمیان بھی اس معاملے پر اختلاف رائے ہے،ان کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال نے صوبے میں ایک آئینی بحران پیدا کردیا ہے،جب تک سابق وزیراعلیٰ کا استعفیٰ آئینی طور پر منظور نہیں ہوتا، اس وقت تک نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کی کوئی قانونی حیثیت نہیں بنتی۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی آج 90 اراکین اسمبلی کی حمایت سے خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اعتراضات کے ساتھ واپس کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئینی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا، جس کے بعد صوبائی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتخاب کے خلاف اپوزیشن کا عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ،ڈاکٹر عباد اللہ کے اعلان نے صوبے میں نیا آئینی بحران پیدا کر دیا
4