اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ بجٹ سیشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے اجلاس میں شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ساتھ ہی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کرنے کی حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق یہ فیصلہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقدہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں سمیت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے ارکان اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنما راجہ ناصر عباس نے شرکت کی۔اجلاس میں تفصیلی مشاورت کے بعد طے پایا کہ اپوزیشن بجٹ سیشن میں اپنی پارلیمانی موجودگی برقرار رکھے گی تاکہ حکومتی پالیسیوں کو موثر انداز میں چیلنج کیا جا سکے تاہم اس دوران ایوان کے اندر سخت احتجاج اور ایوان سے باہر عوامی سطح پر بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات اور ان کی رہائی کا مطالبہ ہر صورت جاری رکھا جائے گا اور جب تک اس حوالے سے پیش رفت نہیں ہوتی،احتجاجی حکمت عملی میں کوئی نرمی نہیں لائی جائے گی۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود گزشتہ 34 ہفتوں سے عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی،جس پر انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی سے اس معاملے پر رولنگ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔سپیکر قومی اسمبلی نے اپنے جواب میں کہا کہ اگر عمران خان ایوان کے رکن ہوتے تو ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جا سکتے تھے جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کے لیے متعدد بار ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی گئی تاہم اپوزیشن نے اس میں دلچسپی نہیں دکھائی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے آئندہ بجٹ کو عوام دوست قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے اور عوام مزید بوجھ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور وزیراعظم پارلیمنٹ میں آ کر عوامی نمائندوں کے سوالات کا سامنا کریں۔اپوزیشن رہنماوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنے کی روش برقرار رکھی تو اس کے خلاف سیاسی اور عوامی سطح پر مزید سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے،جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ متوقع ہے۔