اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سینیٹ میں اپوزیشن لیڈ ر علامہ راجا ناصر عباس نے حکومت پر سنجیدہ سیاسی مذاکرات سے گریز کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن ہمیشہ مسائل کے حل کیلئے مکالمے اور سیاسی رابطوں کی حامی رہی ہے تاہم حکومتی رویہ اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ایگزو نیوزکے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو میں علامہ راجا ناصر عباس نے بتایا کہ مختلف مواقع پر اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کیلئے متعدد تجاویز پیش کی گئیں،جن میں محمود خان اچکزئی کی جانب سے پارلیمنٹ کے کانسٹیٹیوشن روم میں ملاقات کی پیشکش اور حتیٰ کہ حکومتی شخصیات کی رہائش گاہ پر بھی بیٹھک کی آمادگی شامل تھی مگر حکومت نے ان تجاویز پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا،حکومت اگر واقعی مسائل کا حل چاہتی ہے تو اسے بامقصد سیاسی ڈائیلاگ کا آغاز کرنا ہو گا۔علامہ راجا ناصر عباس نے واضح کیا کہ اپوزیشن وزیراعظم اور حکومتی وفد کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کیلئے تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ فوری طور پر بیرون ملک مصروفیات ترک کر کے وطن واپس آنے کیلئے بھی تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت اربعین کے موقع پر عراق میں موجود ہیں تاہم مذاکرات کیلئے کسی بھی وقت شرکت ممکن ہے۔
دوسری جانب علامہ راجا ناصر عباس نے اربعینِ امام حسینؓ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن محض ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان جاری جدوجہد کی تجدید کا عہد ہے،کربلا کا واقعہ انسانیت کیلئے یہ پیغام چھوڑ گیا ہے کہ ظلم اور جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اصولوں پر ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔انہوں نے موجودہ عالمی حالات،خصوصاً فلسطین اور غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی دنیا مختلف شکلوں میں ایک نئے کربلا سے گزر رہی ہے۔انہوں نے ایران کے کردار اور خطے میں مزاحمتی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام جدوجہد حسینی فکر کی عکاسی کرتی ہیں،جو ظلم کے خلاف استقامت کی علامت ہے۔ان کے مطابق اربعین ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یزیدیت اور حسینیت صرف تاریخی اصطلاحات نہیں بلکہ ہر دور میں حق اور باطل کی نمائندگی کرتی ہیں۔ادھر ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہوتی تو اپوزیشن کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات درج نہ کیے جاتے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کی جا رہی ہیں،حتیٰ کہ اپوزیشن قیادت کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی سہولت تک میسر نہیں۔