اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں اپنے عہدے سنبھالنے کے بعد پہلا دھواں دار خطاب کرتے ہوئے ایوان کو مضبوط بنانے اور ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ مشروط تعاون دینے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے آرمی چیف کو اپنے حلف کی مکمل پاسداری کرنے کی ہدایت کی اور زور دے کر کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندی فوری طور پر ہٹائی جائے۔اپنے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے اصول پسندی،عوامی فلاح اور قومی خودمختاری کے لیے مستقل عزم کا بھی اظہار کیا جبکہ موجودہ سیاسی اور ملکی حالات پر تشویش کا عندیہ دیتے ہوئے ایوان میں تعمیری اور مضبوط کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سنبھالنے کے بعد محمود خان اچکزئی نے اپنی پہلی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے،ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ مشروط تعاون دینے اور آئین و اصول کی پاسداری کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے اور ہر وہ اقدام جو عوام کی فلاح کے لیے ہو،اس میں اپوزیشن حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آرمی چیف کو اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے افواج کی قیادت کریں،میں اُن کا ہاتھ چوموں گا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی ملاقات پر پابندی فوری ختم ہونی چاہیے،عمران خان سے بہنوں اور دوستوں کو ملنے دیا جائے،خدا گواہ ہے،اللہ کے نام اوپر ہیں آج تک ہم نے اپنا ووٹ نہیں بیچا اور نا ایک پیسہ لیا،آج تک اپنے حلف سے غداری نہیں کی،پتہ نہیں کس نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کیلئے نواز شریف سے بات کی،میں اُس مٹی کا نہیں بنا کہ عہدوں کیلئے کسی سے بات کروں،ہم کسی عہدے کے لیے کسی سے بات نہیں کرتے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کے دباو میں آئیں گے۔
اپوزیشن لیڈر نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پورا خطہ مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور ملک مظاہروں اور عوامی تحریکوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے اور ایوان میں تعمیری گفتگو پر توجہ دینی چاہیے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ ایوان کو طاقت کا مرکز بنانے کے لیے کام کریں گے اور برے کاموں میں کسی کا ساتھ نہیں دیں گے،ایوان میں ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں جو ماں بہن کے سامنے نہیں کی جا سکتیں اور شہریوں کی عزت و تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اچھے کاموں کے لیے اپوزیشن اپنے ووٹ بھی فراہم کرے گی تا کہ داخلہ،خارجہ اور معاشی پالیسیاں ایوان میں مشترکہ طور پر بنائی جا سکیں۔انہوں نے سابقہ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مشکل وقت میں تعاون کیا اور اپنے اصول کی بنیاد پر ہمیشہ انصاف اور دیانتداری کا مظاہرہ کیا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بھارت نے اپنی پارلیمان کو مضبوط بنایا لیکن ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو حالات کہاں پہنچ گئے،موجودہ حالات میں قوم کی رہنمائی کے لیے پندرہ افراد بھی سامنے نہیں آ پاتے۔انہوں نے وینزویلا کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طاقتیں بعض اوقات دوسروں کو لڑانے کی کوشش کرتی ہیں اور یہ ملک کے خودمختار فیصلوں پر اثر ڈالنے کا سبب بن سکتی ہیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ بلاوجہ کسی کو تنگ نہیں کریں گے اور سپیکر سردار ایاز صادق سے بھی ملاقات کریں گے تا کہ قومی اسمبلی کے مسائل پر بات چیت کی جا سکے اور تعمیری کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر بیٹھنا ہو گا اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالنا ہو گا۔