پشاور(بیورو رپورٹ)پاکستان میں انتخابات کے متنازع ہونے کا معاملہ نیا نہیں لیکن بات ہو سینیٹ انتخابات کی تو کھلم کھلا پیسہ چلنا اور”ہارس ٹریڈنگ“جیسی اصطلاحات زبان زدعام ہو جاتی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کی پانچ نشستوں پر سینیٹ انتخابات میں ایک بار پھر ”ہارس ٹریڈنگ“کا شور مچ گیا ہے جبکہ صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بیک ڈور رابطے تیز ہو گئے ہیں،دوسری طرف مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی پر سنگین ترین الزام عائد کردیا ہے
”ایگزو نیوز“ کے ذرائع کے مطابق دونوں اطراف کی قیادت ہارس ٹریڈنگ روکنے اور انتخابی عمل کو صاف اور شفاف رکھنے کے لیے تمام امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب کرانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔اپوزیشن نے صوبے سے سینیٹ کی 11 نشستوں میں سے 5 نشستوں پر اپنا حصہ مانگ لیا ہے جبکہ پی ٹی آئی اس معاملے پر اپنی قیادت سے مشاورت کر رہی ہے۔پارٹی کے بعض رہنما اس تجویز پر آمادہ نظر آتے ہیں تاہم کچھ اراکین اب بھی باقاعدہ انتخاب پر بضد ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں جانب سے اتفاق رائے کی کوشش جاری ہے اور امکان ہے کہ آج شام یا کل تک معاملات طے پا جائیں گے۔اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو سینیٹ انتخابات میں خیبرپختونخوا کی 11 نشستوں پر تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو سکتے ہیں،جس سے ممکنہ ہارس ٹریڈنگ کے خدشات ختم ہو جائیں گے۔دوسری طرف جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف 5 کروڑ پر ایک ایک ووٹ بیچ رہی ہے،ہم سے تحریک انصاف کے 29 ارکان نے رابطہ کیا اور کہا کہ 5 سے 10 کروڑ دیں اور ووٹ لیں،یہ ہے عمران خان کی کرپٹ اور عوام دشمن جماعت،ہم ایسی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔جے یو آئی کے رہنما حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا سینیٹ انتخابات میں ایک ایم پی اے کی قیمت 22 کروڑ لگی ہے،جو اس سے بڑھ بھی سکتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات،اپوزیشن اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک ڈور رابطے تیز ہو گئے
23