اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے اعلیٰ سطح وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا،جس کے بعد وفد نے چکیاں چیک پوسٹ کے مقام پر احتجاجی دھرنا دے دیا ہے۔وفد عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں اظہارِ یکجہتی اور سیاسی ملاقاتوں کے لیے روانہ ہوا تھا تاہم سیکیورٹی انتظامات کے باعث انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہ مل سکی۔ترجمان کے مطابق وفد کا مقصد عوامی حقوق، جمہوری آزادیوں اور آئینی بالادستی کے مطالبات کی حمایت اور مقامی قیادت سے ملاقات تھا۔روکے جانے کے بعد اپوزیشن قیادت نے چکیاں چیک پوسٹ پر ہی دھرنا دے دیا اور موقف اختیار کیا کہ جب تک انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی،احتجاج جاری رہے گا۔صورتحال کے باعث علاقے میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں راولاکوٹ جانے والے اعلیٰ سطح وفد کو کہوٹہ کے مقام پر پولیس نے روک دیا، جس کے بعد اپوزیشن رہنماوں نے چکیاں چیک پوسٹ پر دھرنا دے دیا ہے۔وفد راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں اظہارِ یکجہتی اور ملاقات کے لیے جا رہا تھا تاہم سیکیورٹی اداروں نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔اپوزیشن وفد میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور تحریک کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی بھی شامل ہیں۔ترجمان کے مطابق وفد کا مقصد عوامی حقوق،جمہوری آزادیوں اور آئینی بالادستی کے مطالبات کی حمایت اور دھرنے کے شرکا سے خطاب تھا۔کہوٹہ چیک پوسٹ پر پولیس اور وفد کے درمیان مکالمہ بھی ہوا،جس میں اہلکاروں نے واضح کیا کہ اعلیٰ حکام کی ہدایت کے بغیر آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ اپوزیشن قیادت کا کشمیر جانے سے روکا جانا ایک منفی پیغام ہے اور اگر راستہ نہ دیا گیا تو وہ پیدل بھی آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سیاسی قیادت کو روکنا عالمی سطح پر غلط تاثر پیدا کر سکتا ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وفد کا مقصد صرف بات چیت اور اظہارِ یکجہتی ہے اور اگر مطالبات جائز ہوئے تو ان کی حمایت کی جائے گی،بصورت دیگر مثبت مشورہ دیا جائے گا۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ قیادت کو کشمیر جانے سے روکنا افسوسناک ہے اور اس سے منفی تاثر پیدا ہوا ہے۔بعد ازاں اپوزیشن رہنماوں نے چکیاں چیک پوسٹ پر ہی دھرنا دے دیا اور موقف اختیار کیا کہ جب تک انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، احتجاج جاری رہے گا۔
محمود اچکزئی کی قیادت میں اپوزیشن وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا گیا، چکیاں چیک پوسٹ پر احتجاجی دھرنا جاری
11