Home » عمران خان کی صحت پر سمجھوتہ نہیں،27 ستمبر کو بھرپور احتجاج کا اعلان،اپوزیشن نے بڑا سیاسی پلان بنا لیا

عمران خان کی صحت پر سمجھوتہ نہیں،27 ستمبر کو بھرپور احتجاج کا اعلان،اپوزیشن نے بڑا سیاسی پلان بنا لیا

by ahmedportugal
6 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوزڈیسک)اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور علاج کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے، سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے اور 27 ستمبر کو بھرپور احتجاج کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ احتجاج میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شامل کرنے کے لیے باضابطہ رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا سمیت دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت و علاج،عدالتی احکامات پر عملدرآمد، پارلیمانی امور اور اپوزیشن کی آئندہ سیاسی و عوامی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس کے شرکاء نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ علاج،طبی سہولیات اور صحت کے معاملے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا۔اپوزیشن رہنماوں نے حکومت کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی صحت جیسے حساس معاملے کو بھی سیاسی کشمکش کا حصہ بنایا جارہا ہے۔مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔شرکا کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں اور احکامات کی پاسداری حکومت اور ریاستی اداروں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے،اس لیے اس معاملے کو محض سیاسی بیان بازی تک محدود رکھنے کے بجائے قانونی فورم پر اٹھایا جائے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق معاملے پر آئینی و قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جائے گا۔ اپوزیشن رہنماوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔دوسری جانب اجلاس میں 27 ستمبر کو احتجاج کے پہلے سے کیے گئے فیصلے کو برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ شرکاء نے احتجاج کی تیاریوں اور آئندہ سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی اور فیصلہ کیا کہ ملک بھر میں سیاسی و عوامی رابطوں کو مزید منظم کیا جائے گا۔اجلاس میں 27 ستمبر کے احتجاج کو وسیع تر بنانے کے لیے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا۔اس سلسلے میں تمام متعلقہ جماعتوں کو احتجاج میں شرکت کی باضابطہ دعوت دینے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ممکنہ طور پر احتجاجی سرگرمیوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے پنجاب سمیت ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ عوامی مسائل،آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری حقوق کے حوالے سے عوام کو متحرک کرنے کے لیے سیاسی سرگرمیوں اور رابطہ مہم کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔اپوزیشن رہنماوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ آئین کی بالادستی،جمہوریت کے تحفظ، قانون کی حکمرانی،پارلیمانی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی و جمہوری حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی مشاورت اور مشترکہ فیصلوں کے عمل کو مزید موثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ شرکا نے قرار دیا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں اپوزیشن کے درمیان رابطہ اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا ضروری ہے،اسی لیے اہم سیاسی اور پارلیمانی معاملات پر فیصلے مشاورت سے کیے جائیں گے۔

مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام کی بھی بھرپور حمایت کی اور اسے مزید فعال، منظم اور موثر بنانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتحاد پارلیمان کے اندر سیاسی آواز کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی مشترکہ موقف کو زیادہ موثر انداز میں اجاگر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔اجلاس میں مولانا فضل الرحمن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا۔ شرکاءنے امید ظاہر کی کہ وسیع تر سیاسی اتحاد کے نتیجے میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون بڑھے گا اور پارلیمان سمیت عوامی سطح پر مشترکہ سیاسی حکمت عملی تشکیل دینے میں آسانی ہوگی۔اجلاس کے شرکاءنے آئندہ کی سیاسی، پارلیمانی اور عوامی حکمت عملی پر بھی تفصیلی غور کیا۔ اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ تیز کیا جائے گا تاکہ سیاسی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ سیاسی حالات میں آئین، جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی، جبکہ آئندہ کے سیاسی فیصلے باہمی مشاورت اور اتحاد کے ساتھ کیے جائیں گے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز