Home » چار اکتوبر کا لانگ مارچ ہر حال میں ہو گا،منزل اسلام آباد ہی ہے،شوکت یوسفزئی کا دوٹوک اعلان،پی ٹی آئی کا اگلا لائحہ عمل بھی بتا دیا

چار اکتوبر کا لانگ مارچ ہر حال میں ہو گا،منزل اسلام آباد ہی ہے،شوکت یوسفزئی کا دوٹوک اعلان،پی ٹی آئی کا اگلا لائحہ عمل بھی بتا دیا

by ahmedportugal
11 views
A+A-
Reset

پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی کی جانب سے اعلان کردہ لانگ مارچ 4 اکتوبر کو ہر صورت ہوگا اور اس کی منزل اسلام آباد ہی ہوگی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مارچ کو پرامن رکھنے کے لیے کارکنوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پرامن ہو گا اور پارٹی کی جانب سے اس کی تیاری جاری ہے،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کی کامیابی کا انحصار حکومت کے رویے پر ہو گا۔شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ لانگ مارچ کا آغاز جنوبی اضلاع سے ہو گا،جہاں سے آنے والے قافلے کی قیادت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن سے آنے والے جلوس کی قیادت صوبائی صدر جنید اکبر خان کریں گے،جنوبی اضلاع پشاور،مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن سے آنے والے قافلے صوابی میں جمع ہوں گے،جہاں سے آئندہ مرحلے میں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی سطح پر مارچ کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور کارکنوں کو احتجاج کے دوران پرامن رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔شوکت یوسفزئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی تاریخ کے حوالے سے واضح کیا کہ مارچ ہر حال میں ہو گا اور اس کی منزل اسلام آباد ہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے اس حوالے سے اپنا لائحہ عمل مرتب کرلیا ہے اور مختلف علاقوں سے کارکنوں اور قافلوں کو منظم انداز میں مارچ میں شریک کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پہلے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا،جسے بعدازاں 4 اکتوبر تک موخر کردیا گیا تھا۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 25 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے بارے میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اب تک ہونے والی بات چیت کو وہ حوصلہ افزا قرار دے سکتے ہیں،دونوں جانب سے اپنا اپنا موقف پیش کیا جاچکا ہے اور اب یہ دیکھنا ہے کہ مذاکرات آئندہ کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار حکومتی رویے پر ہے۔

شوکت یوسفزئی کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں جن معاملات کو اہمیت دی جارہی ہے،ان میں پارٹی کے بانی تک رسائی،انہیں ہسپتال منتقل کرنا اور زیر سماعت مقدمات کی جلد سماعت جیسے مطالبات شامل ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی اپنے سیاسی مطالبات کے حصول کے لیے مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کیے ہوئے ہے تاہم 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،مذاکرات اور احتجاجی سیاسی سرگرمی بیک وقت جاری رہ سکتے ہیں اور آئندہ صورتحال حکومتی طرز عمل سے بھی جڑی ہوئی ہے۔گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق سوال پر شوکت یوسفزئی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ موجودہ معاملات کو سیاسی اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔شوکت یوسفزئی کے تازہ بیان سے ایک طرف پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان پر برقرار رہنے کا عندیہ ملتا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کو بھی سیاسی عمل کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔اس سے قبل خود شوکت یوسفزئی نے 29 ستمبر کو سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ ہنگامی اقدامات کے خدشات کے باعث مارچ مزید موخر کرنے کی تجویز دی تھی تاہم بعد کی پیش رفت میں پارٹی کی جانب سے 4 اکتوبر کے مارچ کو برقرار رکھنے کا موقف سامنے آیا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز