اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے لیے نیشنل رجسٹریشن ایگزام(این آر ای)دینا لازمی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غلط فہمی یا ابہام کی کوئی گنجائش نہیں۔
پی ایم ڈی سی کے ترجمان کے مطابق مریضوں کی حفاظت اور صحت کے شعبے میں اعلیٰ معیار قائم رکھنا کونسل کی اولین ترجیح ہے۔اسی مقصد کے تحت غیر ملکی اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ این آر ای امتحان پاس کریں تا کہ ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور صلاحیت کو پرکھا جا سکے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ صرف تسلیم شدہ غیر ملکی میڈیکل اداروں کے گریجویٹس ہی پروویژنل رجسٹریشن کے اہل ہوں گے جبکہ غیر تسلیم شدہ اداروں سے فارغ التحصیل امیدواروں کو پہلے این آر ای امتحان دینا ہو گا۔مزید وضاحت کی گئی کہ ای سی ایف ایم جی (ECFMG) فہرست میں شامل اداروں کے گریجویٹس ہی اس امتحان کے لیے اہل قرار پائیں گے۔ترجمان نے رجسٹریشن سے متعلق زیر التوا کیسز کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ چار سے سات ہزار کیسز زیر التوا ہونے کا دعویٰ حقیقت کے منافی ہے،اصل میں صرف 700 کیسز زیر التوا تھے جن میں سے بیشتر امیدوار اپنی فیس ایڈجسٹ کرا چکے ہیں۔ترجمان پی ایم ڈی سی نے مزید بتایا کہ این آر ای امتحان نومبر 2025 میں منعقد کیا جائے گا اور اس کا شیڈول جلد جاری کر دیا جائے گا۔انہوں نے زور دیا کہ دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں میڈیکل پریکٹس کے آغاز سے قبل لائسنسنگ امتحان لازمی ہوتا ہے لہٰذا پاکستان میں بھی یہی اصول لاگو ہو گا تا کہ مریضوں کو بہترین اور محفوظ علاج کی سہولت یقینی بنائی جا سکے۔
غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے لیے این آر ای ٹیسٹ لازمی قرار،پی ایم ڈی سی کا اعلامیہ جاری
10