لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)نومبر 2025 میں مہنگائی کی شرح حکومت کے تخمینے سے بڑھ کر 6.15 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ وزارت خزانہ نے گزشتہ ماہ مہنگائی کو 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ ظاہر کیا تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق ادارہ شماریات کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ نومبر میں مہنگائی میں 0.40 فیصد اضافہ ہوا اور جولائی تا نومبر پانچ ماہ کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 5.01 فیصد رہی۔نومبر میں خوراک کی اشیاء میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔پیاز کی قیمتوں میں 48 فیصد اضافہ ہوا،زندہ برائلر چکن 17 فیصد،انڈے 8 فیصد،مچھلی 3 فیصد،آلو 2.67 فیصد،تازہ پھل 2.27 فیصد،بڑا گوشت 1.81 فیصد اور گندم کی مصنوعات 1.61 فیصد مہنگی ہو گئیں۔کوکنگ آئل میں 1.55 فیصد،گندم میں 1.12 فیصد اور دودھ میں 1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔خوراک کے علاوہ دیگر اشیاءاور سہولیات کی قیمتیں بھی بڑھیں۔ بجلی کے چارجز 7.11 فیصد،ریڈی میڈ گارمنٹس 3.70 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ ایندھن کی قیمتیں 2.21 فیصد،میڈیکل ٹیسٹ 2 فیصد اور ادویات 1.48 فیصد تک مہنگی ہو گئیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نومبر میں مہنگائی کی یہ بلند سطح شہریوں کی قوت خرید پر براہِ راست اثر ڈالے گی اور بنیادی ضروریات کی اشیاء میں اضافے نے عام صارفین کے بجٹ پر دباو بڑھا دیا ہے۔ خاص طور پر پیاز اور چکن جیسی اشیاء میں غیر معمولی اضافہ،روزمرہ کی خوراک کو مہنگا اور عوام کے لیے مہنگائی کا بوجھ بڑھا رہا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بجلی اور ایندھن میں اضافے نے مہنگائی کے دباو کو مزید بڑھایا ہے جبکہ حکومت کے تخمینے کے برعکس نومبر میں مہنگائی کی حقیقی شرح عوام کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ ماہ بھی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے، جس سے معیشت اور صارفین کی مالی حالت پر دباو بڑھ سکتا ہے۔یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نومبر 2025 میں بنیادی خوراک،توانائی اور ادویات سمیت مختلف شعبوں میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات عام شہریوں تک پہنچ چکے ہیں اور مہنگائی کی یہ بلند شرح ملک میں مالی دباو اور معاشی عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا رہی ہے۔