Home » سرورِ کائنات ﷺ نے بھی بدر میں تلوار اٹھائی،ہر مسئلہ مذاکرات سے حل نہیں ہوتا،ڈی جی آئی ایس پی آر

سرورِ کائنات ﷺ نے بھی بدر میں تلوار اٹھائی،ہر مسئلہ مذاکرات سے حل نہیں ہوتا،ڈی جی آئی ایس پی آر

by ahmedportugal
4 views
A+A-
Reset

پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں کو جگہ دی گئی،خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے جس کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں،ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو بدر کے میدان کو یاد کریں کہ سرور کونینﷺ دو جہان جن کےلئے بنائے گئے،وہ ذات جس سے بڑھ کر کوئی انسان نہیں،کیوں نہیں اس دن انہوں نے بات چیت کر لی،ادھر تو باپ کے آگے بیٹا کھڑا تھا،بھائی کے آگے بھائی کھڑا تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے، خیبرپختونخوا کے غیور عوام دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں،انشاءاللہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکیں گے،افواج پاکستان کی جانب سے تجدید عزم کرنے آیا ہوں، خیبرپختونخوا میں جان بوجھ کر دہشت گردوں اورسہولت کاروں کو جگہ دی گئی،آج یہ بیانیہ کہاں سے آگیا کہ افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیجنا، گورننس، مجرمانہ سیاسی پشت پناہی کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری  نے کہا کہ دہشت گردی ختم نہ ہونے کی پانچ بنیادی وجوہات ہیں،نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کرنا،دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کرنا اور قوم کو اس سیاست میں الجھانا،بھارت کا افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا،افغانستان میں دہشت گردوں کو جدید ہتھیاروں اور پناہ گاہوں کی دستیابی، مقامی اور سیاسی پشت پناہی کا حامل دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف 2024 اور 2025 میں پاکستان جہنم واصل کیے جانے والے افغانیوں کی تعداد 161 بنتی ہے،اس کے علاوہ افغانستان کی سرحد سے دخل اندازی کرتے ہوئے 135 خارجی مارے گئے جبکہ 2 سال میں خود کش حملے کرنے والے 30 حملہ آور میں افغان شہری تھے،یہ اعداد و شمار افغانستان کو بھارت کے دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر عیاں کرتے ہیں، 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد سیاسی و ملٹری لیڈر شپ نے ایک مشترکہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا، دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہونا ہے۔پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سوال ہوتا ہے دہشت گردی کے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟پنجاب اورسندھ میں گورننس قائم ہے،ان صوبوں میں پولیس اورقانون نافذ کرنے والے ادارے کام کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور دہشتگردوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے،بھارت کا افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کے طور پر استعمال کرنا بھی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ہے، افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑے گئے ہتھیاروں کا بڑا حصہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگا،ہم نے کئی دہائیوں تک افغان بھائیوں کی مہمان نواز کی،آج حکومت کہتی ہے کہ افغان بھائی واپس جائیں تو اس پر بیانیے بنائے جاتے ہیں،باتیں کی جاتی ہیں،افغان مہاجرین کے حوالے سے گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں،صرف ریاست، افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی پاکستانی عوام کی سکیورٹی کے ضامن ہیں،پاکستانی عوام کی سکیورٹی کسی دوسرے ملک بالخصوص افغانستان کو رہن نہیں کی جا سکتی۔

انہوں  نے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہو رہی، 2014 اور 2021 میں یہ فیصلہ ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کو مضبوط کیا جائے گا اور کاونٹرر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ کو مضبوط کیا جائے گا،ہم کے پی کی بہادر پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں لیکن آپ  نے ان کی تعداد صرف 3200 رکھی ہوئی ہے،خیبر پختونخوا میں گورننس کے خلا کو ہمارے سکیورٹی فورسز کے جوان اپنے خون سے پورا کر رہے ہیں،خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے لیکن کسی فرد واحد کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی ذات کے لیے ریاست اور پاکستانی عوام کے جان،مال اور عزت کا سودا کرے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز