مظفرآباد(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد کشمیر میں حالیہ صورتحال کے بعد معمولات زندگی اور تجارتی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی کا عمل شروع ہو گیا ہے،جس کے تحت تاجروں نے 29 جون سے پورے خطے میں دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔تاجر رہنماوں کے مطابق مختلف علاقوں میں حالات میں بہتری اور امن و امان کی بحالی کے بعد کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ معمول پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس اعلان کو خطے میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزونیوز کے مطابق آزاد کشمیر کے تاجر اور ٹرانسپورٹ رہنماوں نے 29 جون سے پورے خطے میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ کھلے رکھنے کا اعلان کر دیا ہے،جس کے بعد مختلف علاقوں میں معمولات زندگی کی بتدریج بحالی کا عمل تیز ہونے کا امکان ہے۔مظفرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران تاجر اور ٹرانسپورٹ رہنماوں نے واضح کیا کہ ماضی میں وہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں تاہم اب موجودہ صورتحال میں ان کا اس پلیٹ فارم سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ان رہنماوں نے کہا کہ وہ پاکستان،پاک فوج اور حکومت کے خلاف کسی بھی موقف کا حصہ نہیں بن سکتے اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتے ہیں۔انہوں نے بعض حلقوں کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ”راولاکوٹ میں بیٹھے یہ لوگ کون ہیں“اور 12 نشستوں سے متعلق معاملہ آئینی نوعیت کا ہے،جو ان کے مطابق ان کا بنیادی مسئلہ نہیں رہا۔رہنماوں نے مزید کہا کہ اختلافات کے باوجود مفاہمت کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور جو عناصر واپس آنا چاہیں وہ اب بھی وقت ضائع کیے بغیر لوٹ سکتے ہیں۔تاجر رہنما گوہر کشمیری نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ 29 جون کو تمام تاجر اپنے کاروبار دوبارہ شروع کریں گے،جس سے تجارتی سرگرمیوں میں واضح بہتری متوقع ہے۔دوسری جانب آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی جزوی اور بعض مقامات پر مکمل طور پر بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مظفرآباد میں میڈیکل سٹورز،سبزی و فروٹ کی دکانیں اور بیکریاں کھلی رہیں جبکہ میرپور،بھمبر اور نیلم کے آٹھ مقام سمیت متعدد علاقوں میں کاروباری مراکز جزوی طور پر فعال رہے۔
آزاد کشمیر میں معمولات زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی،تاجروں کا 29 جون سے دکانیں کھولنے کا اعلان
19